آمدن سے زائد اثاثوں کا کیس: شہباز شریف کی درخواست ضمانت منظور

لاہور ہائیکورٹ نے آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کی درخواست ضمانت منظور کر لی۔ آمدن سے زائد اثاثوں سے متعلق کیس میں شہباز شریف کی درخواست ضمانت پر سماعت لاہور ہائیکورٹ میں ہوئی۔

دوران سماعت نیب پراسیکیوٹر سید فیصل رضا بخاری نے کہا کہ نصرت شہباز نے ٹی ٹیز سے کمپنی بنائی جس کی وہ ڈائریکٹر بنیں، اس کمپنی کا منافع ایک کروڑ روپے سے بھی کم تھا، حمزہ شہباز کے 53 کروڑ 30 لاکھ کے اثاثے ہیں، حمزہ شہباز کو 23 ٹی ٹیز آئیں، جب تک حمزہ شہباز کے پاس عوامی عہدہ تھاکوئی ٹی ٹی نہیں آئی۔

نیب وکیل کا کہنا تھا کہ شہباز شریف 2008 سے 2018 کے دوران وزیر اعلیٰ پنجاب رہے، شہباز شریف2018 میں ایم این اے بنے، 2018 میں شہباز شریف کے7 ارب 30 کروڑ کے اثاثے ہو گئے، 2009 میں جائیداد سیٹلمنٹ میں رمضان شوگرمل شہبازشریف کےحصے میں آئی جبکہ چوہدری شوگر مل اور دیگر نواز شریف اور عباس شریف کے حصے میں چلی گئیں۔

نیب پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ ہمیں 7 ارب 32 کروڑ روپے کے اثاثوں کی تفصیلات نہیں مل رہیں، یہ پہلے ڈی ایچ اے میں کرائے پر رہتے رہے ہیں، فیملی جائیداد کی تقسیم کا ان بھائیوں کے درمیان معاہدہ ہوا، فیملی جائیداد میں سے ان سب کو فیکٹریاں، ملز حصے میں آئیں، تین کروڑ روپے سالانہ کی ان کی آمدن کے ذرائع کا کوئی پتہ نہیں، زرعی پیداوار سے آمدن 13 ملین روپے سے زائد سالانہ ہوتی ہے۔

سید فیصل رضا بخاری کا کہنا تھا کہ 292 کنال اراضی 2011 میں فروخت کی گئی، 2018 میں 106 کنال اراضی ان کے حوالے کی، 73 لاکھ 50 ہزار روپے اپنی بیگم سے بطور تحائف لیتے ہیں، شہباز شریف کے بیٹے سلیمان شہباز، حمزہ شہباز اور دونوں بیٹیاں بے نامی دار ہیں، بطور وزیر اعلیٰ نثار احمد کو 40 لاکھ تنخواہ پر رکھاجو مفرور ہیں، نثارٹریڈنگ کے نام سے کمپنی بنائی گئی جس میں ٹی ٹیز آتی رہیں، 299 ملین روپے کی ٹی ٹیز ان کے اکاؤنٹس میں آئیں۔

نیب کے پراسیکیوٹر نے بتایا کہ نصرت شہباز کو وراثت میں کوئی جائیداد ٹرانسفر نہیں ہوئی، سلیمان شہباز اور حمزہ شہباز کے ناموں پر ٹی ٹیز بھی آتی رہیں، اپنی رہائشگاہوں کو 10سال تک وزیراعلیٰ ہاؤس کا درجہ دیکرکروڑوں روپے خزانے سےخرچ کیے گئے، کمپنیوں سے ایک کروڑ سے زیادہ منافع ہوا جبکہ 26 ٹی ٹیز بھی آئیں۔

دوران سماعت عدالت نے نیب پراسیکیوٹر سے استفسار کیا کہ آپ ہمیں شہباز شریف کی حد تک کیس بتائیں جس پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ جی میں وہی وضاحت دینے کی کوشش کر رہاہوں ۔ نیب پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ وراثت میں ملی رمضان شوگرمل کے علاوہ ان کاکوئی ذریعہ آمدن نہیں، جو بھی بنایا گیا باہر سے آنے والی ٹی ٹیز سے بنایا گیا، پاپڑ والےکے اکاؤنٹ سے 14 لاکھ ڈالر ان کے نام پر بھجوائے گئے، پاپڑ والے نے بتایا کہ اس کا شہباز شریف فیملی سے کوئی تعلق ہی نہیں، نا کبھی پیسے بھجوائے۔

نیب پراسیکیوٹر نے مزید بتایا کہ سلیمان شہباز نے 2003 میں اپنے 19 لاکھ کے اثاثے ڈکلیئر کیے، جو بھی اثاثے بنے 2005 کے بعد بنےجب ٹی ٹیز آنا شروع ہوئیں، جن افرادکے نام ٹی ٹیز آئیں ان کاکہنا ہے کہ وہ کبھی ملک سے باہر نہیں گئے، شہباز شریف خودکو بےگناہ سمجھتے ہیں تو ٹرائل کورٹ میں بریت کی درخواست دائر کر دیں۔

شہباز شریف کے وکیل نے کہا کہ نیب کے 110 گواہوں میں سے ایک نے بھی شہباز شریف کا نام لیا ہو تو ضمانت واپس لے لیں گے۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ ایف بی آر میں اثاثوں کی تفصیلات جمع کروائی گئیں، ایف بی آر نے کیوں نہیں پوچھا کہ جائیداد آمدن سے زائد ہے، اگر ایف بی آر کے دائرہ اختیار میں آتا ہے تو نیب کیوں انکوائری کر رہا ہے۔

وکیل شہباز شریف نے کہا کہ ایف بی آرکی رپورٹ بھی لگائی ہے، مجھے 27 کروڑ کا حساب دینا ہے، میں نے زرعی زمین سے جھاڑ پیداوار اور ڈیری کی ٹیکس تفصیل بھی دی ہے۔ عدالت نے کہا کہ ایف بی آر کو پوچھنا چاہیے تھا کہ آمدن اتنی زیادہ کیسے ہو گئی، جس پر شہباز شریف کے وکیل نےکہا کہ چھ سال سے زیادہ کا آڈٹ نہیں ہو سکتا، کوئی اتنی دیر تک رسیدیں نہیں سنبھال سکتا، میرے مؤکل کی 70 سال عمر ہے اور وہ اپوزیشن لیڈر ہیں، ایک گواہ بیان دیدےکہ شہباز شریف اس رقم کے مالک ہیں، کسی گواہ نے یہ بیان نہیں دیا کہ شہباز شریف ملزم ہے۔

عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد 50، 50 لاکھ روپے کے دو مچلکوں کے عوض شہباز شریف کی درخواست ضمانت منظور کر لی۔