پنجاب کے مختلف شہروں میں جلاؤ گھیراؤ، درجنوں افراد گرفتار

پنجاب کے مختلف شہروں سے جلاؤ گھیراؤ کے الزام میں 100 سے زائد افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔ فیصل آباد میں فائرنگ اور پتھراؤ کے باعث زخمی ہونے والا راہگیر اسپتال میں دم توڑ گیا جبکہ مختلف الزامات کے تحت 73ملزمان کو گرفتار کر کے 9 مقدمات درج کر لیے گئےہیں۔

سی پی او فیصل آباد سہیل چوہدری کے مطابق پُرتشدد احتجاج کے دوران پتھراؤ اور تشدد سے 10 پولیس اہلکار زخمی ہوئے، ملزمان کے خلاف مختلف تھانوں میں 9 مقدمات درج کر لیے گئے ہیں۔ سی پی او فیصل آباد کا کہنا ہےکہ شہر کی مرکزی شاہراہراؤں، ایم 3 اور ایم 4 موٹر وےکو ٹریفک کے لیےکھول دیا گیا ہے۔ گوجرانوالہ میں چندا قلعہ بائی پاس پر تور پھوڑ کے الزام میں 55 نامزد اور 300 نامعلوم ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا، جلاؤ گھیراؤ، اغوا اور دہشت گردی کی دفعات کے تحت درج مقدمے میں نامزد 19 ملزمان کو گرفتار بھی کر لیا گیا ہے۔

سیالکوٹ کے پُل ایک پر مظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ کیا اور وین کو آگ لگا دی جبکہ ملتان میں پولیس نے بہاولپور بائی پاس پر مظاہرین کو منتشر کرکے روڈ کو ٹریفک کے لیے کھول دیا ہے۔ ڈی جی خان میں غازی گھاٹ کے مقام پر احتجاج ختم کرانے پر کی کوشش کے دوران مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپ ہوئی جس میں سب انسپکٹر محمد عمر تشدد سے زخمی ہو گئے۔

جہلم میں مظاہرین کے پتھراؤ سے 12 پولیس اہلکار زخمی ہوگئے جبکہ جی ٹی روڈ کھوالنے کے لیے پولیس کی جانب سے شیلنگ بھی کی گئی۔ دوسری جانب حیدرآباد میں 6 افراد کو ایم پی او کے تحت گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ سیہون میں مظاہرین اور پولیس میں جھڑپ کے دوران 3 اہلکار زخمی ہوئے، پانچ مظاہرین کو بھی حراست میں لے لیا گیا۔