چیئرمین ایف بی آر کو توسیع دی جائے یا نیا تعینات کیا جائے

اسلام آباد (روزنیوزرپورٹ)ماہر معاشیات عابد سلہری نے پروگرام ’’ سچی بات ‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نیازی صاحب میں آپ کی رائے سے اتفاق کرتا ہوں ، حکومت جو چھوٹے قرضے فراہم کررہی ہے وہ انتہائی اہمیت کے حامل ہیں ، اب کم از کم تین سے پانچ مرلے والے لوگ اپنا گھر بنا سکتے ہیں ، اور چھت کی فراہمی حکومت کا بنیادی حق ہے ، انہوں نے کہا کہ پہلے 26فیصد مارک اپ پر قرضے دیئے جاتے تھے لیکن اب یہ بہت کم مارک اپ پر فراہم کیے جارہے ہیں ، حکومت کے یہ اقدامات قابل تحسین ہیں ، عوام کو گھر فراہمی کا خواب شرمندہ تعبیر ہو جائے گا، انہوں نے کہا کہ حکومت کو توانائی بحران سے نمٹنے کیلئے ٹارگٹ سبسڈی کی طرف جانا ہو اور وہ جا بھی رہی ہے ، 65فیصد کام مکمل ہو چکا ہے، حکومت کو کوشش ہے کہ انرجی کے مسئلے کو حل کیا جائے اور مستحق افراد تک سبسڈی پہنچائی جائے ، یہ بہت بڑا اقدام ہے جس کو حکومت حاصل کرنے جارہی ہے ، گو کہ کرونا کی وجہ سے معاملات تعطل کا شکارہوئے لیکن ہم کامیابی سے آگے بڑھ رہے ہیں ، انرجی کے حوالے سے سروے مکمل ہونا چاہئے تاکہ مثبت نتاءج سامنے آسکیں ، کرونا نے دنیا بھر کی معیشت کو کمزور کر رکھ دیا ، عابد سلہری نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ریگرلیٹر کو مختار ہونا چاہئے ، تاہم اس حوالے سے حدود قیود ہونا لازمی ہے ، نیازی صاحب الیکشن کمیشن کو دیکھ لیں خود مختار ادارہ ہے ، اس نے اپنی ساکھ پر آنچ نہیں دی ، دسکہ میں الیکشن کرائے ، انہوں نے کہا کہ سٹیٹ بنک کو سیاسی اثر رسوخ سے آزاد ہونا چاہئے ، سٹیٹ بینک اگر مہنگائی کو کنٹرول کر لیتا ہے تو پھر کوئی بات نہیں ، اگر مہنگائی کنٹرول نہیں کر پاتا تو پھر اس حوالے سے بات کی جا سکتی ہے ، انہوں نے کہا کہ ایف بی آر میں بہت قابل لوگ ہیں ، موجودہ چیئرمین آئندہ تین ماہ کے دوران ریٹائر ڈ ہونے والے ہیں ، بہتر ہو گا کہ اچھے فیصلوں کیلئے یا تو ان کو ایکسٹنشن دےدی جائے یا پھر کوئی نیا ایف بی آر کا چیئرمین بنا دیا جائے تاکہ فیصلے کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہ ہو، کیوں کہ اگر تین ماہ کے بعد پھر نیا ایف بی آر چیئرمین تعینات کی گیا تو اس کارکردگی اور ایف بی آر کے کام پر اثر پڑے گا ۔