طاہر اشرفی کا پروگرام ’’ سچی بات ‘‘ میں 18ویں ترمیم ، انتخابی اصلاحات ، مہنگائی اور دیگر مسائل کے حوالے سے اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت دینا خوش آئند

اسلام آباد (روزنیوزرپورٹ)پاکستان گروپ آف نیوز پیپرز کے چیف ایڈیٹر اور روزنیوز کے چیئرمین ایس کے نیازی نے پروگرام ’’سچی بات ‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مساجد میں ایس او پی کا کوئی خیال نہیں رکھا جا رہا ہے، جمعتہ المبارک کی نماز میں تو فاصلہ تک برقرار نہیں رکھا جاتا ، پاکستان کو جو کہا جا رہا ہے کہ مدینہ جیسے ریاست بنائیں گے ، یہ کیسی ریاست ہے جہاں ہوٹلوں میں شراب سر عام فروخت ہو رہی ہے ، مساج سینٹر کھلے ہیں ، مدینہ کی ریاست میں تو ایسا نہیں ہوتا ، کرونا کے حوالے سے احتیاطی تدابیر پر عمل درآمد نہ ہونے کے برابر ہے ، مسجد نبوی ﷺ میں نماز ہمارے لئے مشعل راہ ہے ، وہاں پر کرونا ایس او پی پر عمل کیا جا رہا ہے ، نماز کے دوران فاصلہ رکھا جاتا ہے ، ایس کے نیازی ایک سوال کے جواب میں کہا کہ وفاقی دا رالحکومت میں تو ڈی سی پھر بھی نظر آجاتا ہے لیکن پنجاب میں انتظامیہ غائب ہے ، وزیر اعظم ترنول تک محدود ہو گئے ہیں ، 18ویں ترمیم نے وفاق کو محدود کر رکھ دیا ہے ، حکمرانوں اور قوم کو رویہ درست کرنا ہوگا، جب سربراہان اپنا رویہ درست کریں گے تو عوام خود بخود درست ہو جائے گی ، انہوں نے کہا کہ حکومت میں 80فیصد وزراء کرپٹ ہیں سب کے اپنے اپنے کاروبار ہیں ، حالانہ سیاستدانوں کو کاروبار نہیں کرنا چاہئے ، جب وہ اپنے اپنے کاروبار کریں گے تو پھر عوامی مسائل پر کیوں کر توجہ دے سکیں گے ، جب کوئی سیاستدان کاروبار کرتا ہے تو ہمیشہ اپنے بھلے کا سوچتا ہے ، در اصل اوپر کا نظام خراب ہے ، وزیر مذہبی امور کے پاکستان میں سب بڑے گروسری سٹورز ہیں ، ندیم بابر کو دیکھ لیں ان کے بجلی کے کارخانے ہیں ، اور بھی وزراء کاروبار کررہے ہیں ، انہوں نے کہا کہ جب بھاشا ڈیم بنا تو وہاں کے باتھ روموں تک میں عبد الرزاق داءود کی کمپنی کو مشتہر کیا گیا تھا ، عامر کیانی ادویات کے سکینڈل میں ملوث تھا ، اس کو پارٹی کا جنرل سیکرٹری بنانا قطعی طور پر جائز نہیں ۔