آج ن لیگ والے اچھی بات سننے کیلئے بھی تیار نہیں ، پاک بھارت تعلقات کا راستہ کشمیر سے گزر کر جاتا ہے

اسلام آباد (روزنیوزرپورٹ)وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے بین المذاہب ہم آہنگی علامہ طاہر اشرفی نے پروگرام سچی بات میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نیازی صاحب آپ سے بہت پرانی یاد اللہ ہے ویکسین کا انجیکشن لگانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا ، کیونکہ اس کے اثرات اور قوت کوئی ہفتوں کے بعد آتی ہے ، اس لئے روزے کو کوئی خطرہ نہیں ہوتا، پہلے سعودی عرب نے پھر مصر نے اور پھر در الافتاء پاکستان نے اس حوالے سے فتویٰ جاری کیا ہے ، انہوں نے کہا کہ گزشتہ برس دنیا نے تسلیم کیا کہ رمضان المبارک میں پاکستان کی مساجد میں ایس او پی پر عمل کیا گیا، اگر مستقبل میں کوئی کمی ہے تو ہم آئمہ کرام ، موَذن اور امام صاحب سے بھی گزارش کریں گے کہ اس کو دور کریں ، انہوں نے کہا کہ اگر ہوٹلوں میں شراب بک رہی ہے ، مساج سینٹر کھلے ہیں تو یہ غلط بات ہے کیونکہ جو غلط ہے تو وہ غلط ہے ، ابھی پاکستان مدینہ کی ریاست جیسا بنا نہیں ، اس پر کام جاری ہے ، نیازی صاحب آپ بتائیں کہ اکیلا عمران خان کیا کرے ، جب ایک ریڑھی بان تک بے ایمانی کرے، میں کہتا ہوں کے عمران خان دیانتداری پر انگلی نہیں اٹھائی جا سکتی ، جو بات عمران خان کو بتائی جائے یا ان کے علم میں اس پر ہر صورت ایکشن ہوتا ہے ، ہر چیز کا ذمہ دار عمران خان کو نہیں ٹھہرایا جا سکتا، ملک میں جو نظام ہے ، وہ درست نہیں ، جب وزیر اعظم ہاءوس کا خرچہ پچاس فیصد کم کر دیا ہو تو ایسے نظام کو نچلا طبقہ تسلیم کرنے کو تیار ہی نہیں ، انہوں نے کہا کہ جب عمران خان کو پتہ چلا کہ جہانگیر ترین معاملات درست نہیں تو انہوں نے اس سے دوری اختیار کر لی ، حالانکہ وہ پی ٹی آئی کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے تھے، نیب کے مریم نواز کو بلانے کے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کیا مریم نواز کو وہاں بلا کر قتل و قتال کرائے جاتے ، جب روایت یہ ہو کہ کسی کو کوئی ادارہ بلائے تو وہ کہے میں دس ہزار بندے ساتھ لے کر آتا ہوں تو پھر کیا جائے ، یہ روایت انتہائی غلط ہے ، اس میں چاہئے مولانا فضل الرحمان شامل ہوں ، عمران خان یا کوئی اور غلط ہے ، اگر جم غفیر لانا ہے مقصود ہو تو پھر اداروں کو کام کرنا چھوڑ دینا چاہئے ، طاقت کے زور سے جتھوں کو اکٹھا کرنے سے اجتناب کرنا چاہئے ، پھر تو یہ ملک نہ ہوا ، یہاں نظام کوئی نہ ہوا ،یہ جنگل بن گیا، یہ کیا بات ہے کہ جب باپ آپ سے بات کرے تو صحیح اور وہی باپ گیلانی سے بات کرے تو غلط ہے ،مذہبی کارکن کے حوالے سے میرے لئے ایسی باتیں تکلیف دہ ہیں ، ہم کدھر جار ہے ہیں ، انہوں نے کہا کہ پاکستان میں صرف اور صرف جماعت اسلامی جمہوری جماعت ہے اور کوئی نہیں ، کیا کوئی لیڈر یہ چاہتا ہے کہ اس کے ہوتے ہوئے کوئی اور پارٹی کا سربراہ بن جائے ، انہوں نے کہا کہ ہم نے خان صاحب کے دھرنوں کی بھی مخالفت کی تھی اور انہیں غلط کہا تھا، ن لیگ اپنا ریکارڈ درست کرلے اگر پی ٹی آئی نے پارلیمنٹ حملہ کیا تو وہ بھی غلط تھا، اور ن والے ایسا کر رہے ہیں تو بھی غلط ہے ، اب تو ن لیگ والے اب کوئی اچھی بات بھی سننے کو تیار نہیں ، انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات بہت گہرے ہیں ، اچھے اور برے وقت میں پورے اترے ہیں ، سعودی عرب نے واضح کہہ دیا تھا اگر پاکستان کے ساتھ جنگ ہوئی تووہ پاکستان کے ساتھ کھڑا ہو گا، مشکل وقت میں پاکستان کو کسی صورت تنہا نہیں چھوڑ سکتا، طاہر اشرفی نے کہا کہ خادم الحرمین الشریفین نے خود مجھ سے کہا کہ تھا کہ میرے دل تک ڈاکٹر پاکستانی ہے میں نے تو اپنا دل ہی پاکستان کو دے دیا ہے ، نیز مسئلہ کشمیر کے حوالے سے بھی سعودی عرب نے واضح اور دو ٹوک موقف اپنایا ا ور پاکستان کی حمایت کی ، انہوں نے کہا کہ پاک بھارت مذاکرات یا بھارت سے تعلقات کا راستہ کشمیر سے ہو کر گزرتا ہے ، یہ پاکستان کی ریاست اور عوام کی پالیسی ہے ، اس کو کوئی نہیں بدل سکتا ، یہاں پر امن کا قیام مسئلہ کشمیر حل سے وابستہ ہے ، ماضی میں دیکھیں کہ مختلف قرار دادوں سے مسئلہ کشمیر کو نکال دیا جاتا تھا، لیکن پی ٹی آئی کی حکومت نے ہمیشہ صف اول کے مسائل میں مسئلہ کشمیر کو رکھا، ہمارے یہاں جمہوریت ہے تاہم نظام عدل میں اصلاحات کی ضرورت ہے ، مثال کے طور ایک بندے کی 270پیشیاں ہیں ، اس میں 170مرتبہ میڈیکل کا مسئلہ درپیش آجاتا ہے ، 18ویں ترمیم کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ اس سلسلے میں ہم سب کو اکٹھا مل بیٹھنا ہو گا، تب مسائل حل ہونگے ، آج میں نیازی صاحب کے پروگرام ’’ سچی بات ‘‘ کے ذریعے اپوزیشن اور تمام جماعتوں کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ 18ویں ترمیم ، مہنگائی ، معیشت ، انتخابی اصلاحات بشمول دیگر مسائل کے حوالے سے اکٹھے ہو کر بیٹھے ، بات چیت کریں ، مسائل کا حل نکالیں ، انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم پاکستان عمران خان کی حکومت میں آج ہمارے 66سال بعد کویت سے تعلقات بہتر ہوئے ہیں ، بحرین سے تعلقات اچھے ہونے جا رہے ہیں ، عمران خان اپنی سوچ کے تحت دن رات سرگرداں ہیں ِ اور کام کررہے ہیں کہ کس طرح عوام کومہنگائی سے چھٹکارا دلایا جا سکے ، انہوں نے کہا کہ جب بھی ملک میں کوئی مسئلہ ہوتا ہے تو دنیا وفاق سے پوچھتی ہے ، 18ویں ترمیم کی وجہ سے صوبوں نے ڈیڑھ ڈیڑ ھ اینٹ کی مسجد بنا رکھی ہے ، اس ترمی میں کے حوالے سے بھی کام کرنا ہوگا ۔