مریم نوازکی جانب سےنیب کو دھمکیاں دی جارہی ہیں، شہزاد اکبر

وزیراعظم عمران خان کے میشر برائے داخلہ و احتساب شہزاد اکبر کا کہنا ہےکہ مریم نوازکی جانب سےقومی احتساب بیورو (نیب) کو دھمکیاں دی جارہی ہیں، یہ اتنے لاڈلےکیوں ہیں کہ انہیں بلانےکی جرات نہیں کی جاسکتی۔

لاہور میں وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے شہزاد اکبر کا کہنا تھا کہ مریم نوازکی پیشی کے موقع پرامن امان کے پیش نظر رینجرز اورپولیس تعینات ہوگی،یہ اتنےلاڈلےکیوں ہیں کہ انہیں بلانےکی جرات نہیں کی جا سکتی۔

شہزاد اکبرکا کہنا تھا کہ مریم نوازکو لیکچر دینے کے لیے نیب نہیں بلایا جارہا،مریم نواز اور ان کے ہمنوا نیب کو دھمکیاں دے رہے ہیں، مافیا اور مجرموں کا پرانا طریقہ ہے کوئی ادارہ سوال اٹھائے توحملہ کردو، ان کے خاندان کی تاریخ اداروں پر حملے سے بھری پڑی ہے۔

براڈ شیٹ کمیشن رپورٹ کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ رپورٹ وزیراعظم کوجمع کرائی جاچکی ہے، جو کہ آئندہ کابینہ اجلاس میں پیش کی جائے گی، رپورٹ پبلک کرنی ہے یا نہیں، فیصلہ کابینہ کرے گی۔

مشیر احتساب کا کہنا تھا کہ براڈشیٹ کمیشن رپورٹ میں تمام معاملات کی نشاندہی کی گئی ہے۔ چینی ذخیرہ اندوزی اور سٹے بازی میں جہانگیرترین کی مل بھی شامل ہے،شہزاد اکبر
شوگر مافیا اور سٹہ بازی کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ رمضان آرہا ہے اور ذخیرہ اندوز چینی کی قیمتیں بڑھانا چاہ رہے تھے ،شوگرکی قیمتیں کبھی 70 روپے توکبھی 100 روپے ہو جاتی ہے،4 ماہ کے اندر پورےسال کی چینی تیار ہوجاتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سٹے بازوں کے خلاف بڑا آپریشن کیا گیا ہے، چینی ذخیرہ اندوزوں کے خلاف بھی 10 ایف آئی آر درج کی گئی، سٹے بازوں اورذخیرہ اندوزوں کےگروہوں کے ساتھ شوگر ملز بھی ملوث تھیں ، ان ملوں میں جہانگیرترین کی مل کا نام بھی سامنے آیا ہے۔

شہزاد اکبرکا کہنا تھا کہ ان گروہوں کے لیے مافیا کے الفاظ استعمال چھوٹے ہیں،یہ گروہ منی لانڈرنگ،سٹے بازی میں ملوث ہیں،یہ سٹے بازکہیں رجسٹرڈ ہی نہیں،سٹے بازوں کے پورے نیٹ ورک کے خلاف آپریشن شروع کیا گیا ہے، چینی کی قیمتوں میں ردوبدل ان سٹے بازوں کی وجہ سے ہوتا ہے۔
اس موقع پر وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کا کہنا تھا کہ چینی کے نظام اور ترسیل کو ریگولیٹ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے،کسی بھی ڈیلر کو 2.5 میٹرک ٹن سے زیادہ چینی ذخیرہ کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

عثمان بزدار کا کہنا تھا کہ کوئی شوگرمل غیررجسٹرڈ ڈیلرکوچینی نہیں دے سکےگا، زیادہ چینی ذخیرہ کرنے کے لیے متعلقہ ڈپٹی کمشنرسےاجازت لیناہوگی،شوگرملز اور ڈیلرز اپنا تمام ریکارڈ کین کمشنرکو دینے کے پابند ہوں گے۔