جنوبی ایشیا کی قیادت تعصب اور مذہبی انتہا پسندی کی سیاست ترک کرے: صدر مملکت

اسلام آباد: صدر مملکت عارف علوی نے کہا ہےکہ جنوبی ایشیا کی قیادت تعصب اور مذہبی انتہا پسندی کی سیاست کو ترک کردے۔ یومِ پاکستان کی پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت عارف علوی نے عظیم الشان پریڈ کے انعقاد پر افواج پاکستان اور قوم کو مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ قرارداد پاکستان آج کے دن پیش کی گئی تھی اور 7 سال کے قلیل عرصے میں مسلمانان برصغیر آزادی کی نعمت سے سرفراز ہوئے۔

صدر مملکت کا کہنا تھا کہ ہم دفاعی صلاحیت میں خود مختاری حاصل کرچکے ہیں، جنگ ہویا اندرونی خلفشار، دہشتگردی ہویا قدرتی آفت، عوام اور افواج نے وطن کی حفاظت میں کردار ادا کیا ہے، دنیا کو کورونا کی وبا کا سامنا ہے اور ہم نے کم وسائل کے باوجود وبا کا سامنا کیا، بہت جلد کورونا پر قابو پالیں گے لیکن احتیاط لازم ہے۔

انہوں نے کہا کہ ضرب عضب میں پاک فوج کی دہشتگردی کیخلاف کامیابی کی دنیا معترف ہے، پاک فوج نے آپریشن ردالفساد میں دہشتگردی کے نیٹ ورک کو نیست و نابود کیا، ہم پورے خطے میں امن و سلامتی چاہتے ہیں اور ترقی کے خواہشمند ہیں، جنوبی ایشیا کی قیادت تعصب، مذہبی انتہا پسندی کی سیاست کو ترک کردے۔

عارف علوی کا کہنا تھا کہ ہم اپنی سلامتی اور دفاع کے لیے پرعزم اور ہر قسم کی صلاحیت سے لیس ہیں، ہم اپنی آزادی کا ہر قیمت پر دفاع کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج پاکستان ایک ایٹمی قوت ہے، پرامن بقائے باہمی پاکستان کی خارجہ پالیسی کا جز ہے، ہماری امن کی خواہش کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ کشمیریوں کے ساتھ ظلم پر پاکستان سمیت پوری دنیا کو تشویش ہے اور 5 اگست کا اقدام اقوام متحدہ کی قرار دادوں کی کھلی خلاف ورزی ہے، جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا قیام مقبوضہ کشمیر کے منصفانہ حل سے مشروط ہے، کشمیریوں کو یقین دلاتا ہوں پاکستانی قوم آپ کے ساتھ کھڑی ہے اور کھڑی رہے گی، بلاشبہ کشمیر ہماری شہہ رگ ہے، ہم دنیا کے ہر فورم پر کشمیریوں کے لیے آواز بلند کررہے ہیں اور کرتے رہیں گے جب کہ عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں ظلم و ستم کا نوٹس لے۔

صدر مملکت نے مزید کہا کہ چین ہمارا حقیقی اور سچا دوست ہے، دفاع، معیشت اور سفارتکاری سمیت ہر شعبے میں پاک چین تعاون مضبوط ہورہا ہے، چین کی جانب سے کورونا ویکسین کی فراہمی پر چین کا شکرگزار ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ خلیجی ریاستوں اور سینٹرل ایشیا کے ساتھ ہمارے مضبوط تعلقات ہیں، باہمی اختلافات بھلا کر اسلامی فوبیہ کا مقابلہ کیا جائے۔