بلاول کو حق جو مرضی کہیں ، اتنا کہیں جتنا سن بھی سکیں ، مصدق ملک

اسلام آباد (روزنیوزرپورٹ)ن لیگ کے سینئر رہنما مصدق ملک نے پروگرام ’’ سچی بات ‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایک عورت پر کوئی حملہ کر دے تو پھر ایسے میں کوئی کیا کرے ، ہمارا رویہ درست تھا، عجیب بات ہے ایک عورت کو گالی دی جائے اور حملہ کیا جائے تو یہ غلط بات ہے ، میں نے پریس ٹاک کرنے کے بعد جس نے گاڑی کھڑی کرنے سے روکا تو واپسی پر میں نے اس کا ماتھا چوما، آپ پاکستان میں 100لوگوں کا الیکشن کرا رہے ہیں ، ایسی عمارت جو ہر وقت محفوظ ہوتی ہے دور الیکشن کے دوران تین یا پانچ کیمرے نکل آئیں تو احتجاج کرنا تو بنتا ہے ، پانچ یا ساڑے پانچ فٹ پر لکھا ہو کہ جو امیدوار ہو اس پر مہر لگائیں ڈبہ ایک ہی ہو اور پریذائیڈنگ آفیسر کہے کہ میں آپ کے سات ووٹ منسوخ کرتا ہوں تو پھر احتجاج کرنا تو بنتا ہے ، اس وقت سیاسی بصیرت دکھانا چاہئے ، نوک جھونک چلتی رہتی ہے ، پیپلز پارٹی کا موقف ہے کہ احتجاج پارلیمان میں کرنا چاہئے ، ن لیگ سمجھتی ہے کہ سڑکوں پر احتجاج کیا جائے ، لیکن ہم نے پی پی کی بات مانی ، لیکن پارلیمان کے اندر کوئی پابندی نہیں آتی ، انہوں نے بلاول کی پریس کانفرنس کے حوالے کیا کہ بلاول کو حق ہے جو وہ کہیں جتنا کہیں گے اتنا سننا پڑے گا ، نو جماعتیں جو کہہ رہی ہیں ، پیپلز پارٹی اسے دیکھ کرفیصلہ کرے گی ، نوک جھونک تہذیب کے دائرے میں کرتے رہیں ، بلاول نے یقینی طور پر اشارہ کیا ہو گا ہر ایک کو فیصلہ کرنا ہو گا، کہ وہ کیا کرنا چاہتے ہیں ، ہماری رائے ہے تازہ الیکشن ہوں ، عوامی مینڈیٹ آنا چاہئے ۔