ملک بھر کاروبار صرف 5 دن کھولنے اور روزانہ 8 بجے کرنے کا فیصلہ

کورونا وائرس کے انسداد کے ادارے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) نے کیسز میں اضافے کے بعد ملک بھرمیں رات 8 بجے تک تمام کاروباری سرگرمیاں بند کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر کی زیر صدارت این سی او سی کا اجلاس ہوا جس میں ملکی میں کورونا کی صورتحال پر جائزہ لیا گیا۔

اعلامیے کے مطابق این سی او سی نے ملک بھر میں کورونا کی موجودہ صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ملک بھر میں رات 8 بجے تک تمام کاروباری سرگرمیاں بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ ملک میں ہفتے میں دو دن کاروباری سرگرمیاں بند رہیں گی تاہم کاروبار بند رکھنے کیلئے 2 دنوں کا تعین وفاق کی اکائیاں کریں گی۔ این سی او سی کے مطابق ملک بھر میں سینما اور مزارات مکمل بند رہیں گے جبکہ کورونا ایس او پیز کے ساتھ 300 افراد تک کے اجتماعات کی اجازت ہوگی۔

اعلامیے میں کہنا ہے کہ اسپورٹس، تہوار، ثقافتی اور دوسری تقریبات پر مکمل پابندی ہوگی جبکہ بند مقامات پر ہونے والے تمام ثقافتی، موسیقی اور مذہبی اجتماعات پر پابندی ہوگی۔ اعلامیے کے مطابق 300 افراد تک آؤٹ ڈور شادی تقریبات کی رات 10 بجے تک اجازت ہوگی تاہم شادی کی آؤٹ ڈور تقریبات 2 گھنٹےکیلئے ہوگی جبکہ کسی ان ڈورتقریب کی اجازت نہیں ہوگی۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ملک بھر میں ہر قسم کی ان ڈور ڈائننگ پر پابندی لگادی گئی اور رات 10 بجے تک صرف آؤٹ ڈور ڈائننگ کی اجازت ہوگی جبکہ تمام تفریحی پارک بند رہیں گے تاہم واک اور جوگنگ ٹریک کھلے رہیں گے۔

اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ تمام سرکاری، نجی دفاتر اور عدالتوں میں 50 فیصد گھر سے کام کرنے کی پالیسی اختیارہوگی۔ نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے اعلامیے کے مطابق نیشنل انٹرسٹی پبلک ٹرانسپورٹ 50 فیصد گنجائش کے ساتھ چلائی جائے گی، ریل سروس 70 فیصد گنجائش کے ساتھ چلائی جائے گی جبکہ عدالتوں میں لوگوں کی موجودگی کو کم کیا جائے گا۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ وفاق کی تمام اکائیاں ماسک پہننے کو لازمی بنائیں گی، اس کے علاوہ گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا اور آزاد کشمیر میں سیاحتی مقامات پر ٹیسٹنگ پوائنٹس بنانے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ این سی او سی کے فیصلوں پر عمل درآمد فوری طور کیا جائے گا اور اِن فیصلوں کا اطلاق 11اپریل تک رہے گا تاہم7 اپریل کو صورتحال کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا۔

تعلیمی اداروں کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ تعلیمی شعبے سے متعلق فیصلوں کا 24 مارچ کو جائزہ لیا جائے گا۔