سرگودھا: 90 فیصد زیر زمین پانی ہونے کا انکشاف، بیماریاں پھوٹنے لگیں

پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن نے انکشاف کیا ہے کہ سرگودھا میں 90 فیصد زیر زمین پانی مضر صحت ہے جس کے باعث گیسٹرو، ٹائیفائیڈ، ہیپاٹائٹس، گردوں اور جلد کی بیماریوں میں اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔

پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے صدر ڈاکٹر سکندر حیات وڑائچ کا کہنا ہے کہ ضلع سرگودھا کی 40 لاکھ آبادی میں سے 9 فیصد لوگ پینے کا مضر صحت پانی استعمال کررہے ہیں جس کے باعث انسانی جسم میں قوت مدافعت کم ہورہی ہے اور شہری پیٹ کی بیماریوں ، ہیپا ٹائٹس ، یرقان اور گردے فیل ہونے کی حد تک بیماریوں میں مبتلا ہورہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں دنیا بھر میں کورونا کیسز کی تعداد 12کروڑ سے تجاوز کرگئی

شہر میں پینے کے صاف پانی کے لیے کروڑوں روپے کی لاگت سے واٹر فلٹریشن پلانٹ لگائے گئے جو ناکارہ ہوگئے ہیں، شہری نہر لوئر جہلم کے کنارے لگے ہینڈ پمپس اور واٹر سپلائی پر جاکر مہنگے داموں پینے کا پانی خریدنے پر مجبور ہیں۔ شہر میں مختلف مقامات پر سیوریج کے گندے پانی اور گندگی کے باعث موسم گرما میں صورتحال مزید گھمبیر بھی ہوسکتی ہے۔

شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے لیے ہنگامی بنیادوں پرا سکیمیں شروع کی جائیں تاکہ لوگوں کو بیماریوں سے محفوظ رکھا جا سکے۔