سانحہ مچھ : ایران کے معروف عالم دین کا لواحقین کے نام اہم پیغام

ایران کے معروف عالم دین آیت اللہ مکارم شیرازی نے سانحہ مچھ میں جاں بحق ہونے والے کان کنوں کے لواحقین کے نام پیغام جاری کردیا۔ سانحہ مچھ پرایران کے مرکزی شیعہ عالم مکارم شیرازی نے ہزارہ برادری کے نام پیغام جاری کیا جس میں انہوں نے شہدا کے اہل خانہ سے لاشیں دفنانے کی اپیل کی۔اُن کا کہنا تھا کہ ’شہدا کے اہل خانہ سےالتجاہے کہ وہ اپنےعزیزوں کی تدفین کردیں، تدفین کا مطلب ہرگزیہ نہیں کہ وہ مطالبات سے پسپائی اختیارکریں گے‘۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’کان کنوں کا قتل غم اورصدمےکا باعث ہے،عوام دائرہ قانون میں پرامن اندازسےاحتجاج جاری رکھیں،انشااللہ دہشت گردی کا اسلامی ممالک سےجلدخاتمہ ہوگا‘۔آیت اللہ مکارم شیرازی نے کہا کہ ’شہداکےجسم مطہر کا احترام ہم سب پر واجب ہے،پاکستانی علمانےبھی شہداکی تدفین جلد کرنےکی درخواست کی ہے،خداوند کی درگاہ میں شہیدوں کے بلند درجات کی دعا کی ہے‘۔ انہوں نے سوگوار خاندانوں کے لئے صبر جمیل کی دعا بھی کی۔

واضح رہے کہ سات روز قبل بلوچستان کے علاقے مچھ میں واقع کوئلہ کی کان میں کام کرنے والے 11 مزدوروں کو نامعلوم افراد نے اغوا کیا اور پھر پہاڑوں پر لے جا کر اُن کے گلے کاٹ دیے تھے۔دہشت گردوں نے کان کنوں کے گلے کاٹے اور پھر اُن کی لاشوں کو پہاڑوں پر چھوڑ کر ہی فرار ہوگئے تھے، واقعے میں مرنے والوں میں سے 7 کا تعلق افغانستان سے ہے جن کی لاشوں کی واپسی کے لیے حکومت کو افغانستان نے درخواست بھی بھیجی ہے۔

واقعے کے بعد لواحقین نے کوئٹہ کے مغربی نادرن بائی پاس پر 6 روز قبل دھرنا شروع کیا جو اب تک جاری ہے، لواحقین نے لاشوں کی تدفین وزیراعظم کی آمد سے مشروط کردی ہے جبکہ عمران خان نے واضح پیغام دیا کہ لواحقین لاشیں دفنا دیں تو وہ کوئٹہ کا دورہ کریں گے۔

حکومت کی جانب سے لواحقین سے مذاکرات کی متعدد بار کوشش کی گئی، اس سلسلے میں بلوچستان حکومت کے عہدیداران نے شہدا کمیٹی سے مذاکرات کیے جس میں ناکامی ہوئی، پھر وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید مظاہرین کو منانے پہنچے مگر کامیابی نہ ملی سکی، بعد ازاں وزیراعلیٰ بلوچستان دبئی کا نجی دورہ مختصر کر کے دھرنا مظاہرین کے پاس پہنچے مگر کوئی فائدہ نہیں ہوا۔

وفاقی حکومت نے معاملہ سنبھالنے کے لیے وفاقی وزیر برائے بحری امور علی زیدی اور وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے سمندر پار پاکستانی زلفی بخاری کو بھی بھیجا، دونوں نے مظاہرین کو سمجھانے کی بہت کوشش کی مگر لواحقین اپنے مطالبے سے دستبردار نہیں ہوئے۔

دوسری جانب علی زیدی نے دعویٰ کیا کہ مظاہرین اپنے پیاروں کی لاشیں دفنانا چاہتے ہیں مگر کچھ لوگ انہیں ایسا کرنے سے روک رہے ہیں اور وہ لاشوں کو بنیاد بنا کر اپنی سیاست چمکا رہے ہیں۔ وفاقی وزیر نے دعویٰ کیا کہ مظاہرین سے اُن کی بات ہوئی ہے مگر چند ناعاقبت اندیش لوگوں نے سب کو روکے رکھا ہے۔