کراچی سمیت سندھ بھر میں انسداد پولیو مہم کا آغاز 11 جنوری سے ہوگا

کراچی سمیت سندھ بھر میں 7 روزہ انسداد پولیو مہم کا آغاز 11 جنوری سے ہوگا جس میں صوبے بھر کے 90 لاکھ جب کہ کراچی کے 20 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاو کے قطرے پلائے جائیں گے۔ایمرجنسی آپریشن سینٹر برائے پولیو سندھ کی جانب سے سندھ بھر میں 11 جنوری سے 17 جنوری 2021 تک پولیو مہم چلائی جائے گی، اس مہم میں سندھ کے 29 اضلاع میں 90 لاکھ 5 سال سے کم عمر بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں گے، ان میں سے 20 لاکھ سے زیادہ بچے کراچی میں مقیم ہیں، اس مہم کے دوران 6 ماہ سے لے کر 59 ماہ (4 سال 11 ماہ) کی عمر کے بچوں کو vitamin A بھی دی جائے گی۔

اس مہم کے دوران WHO کی جانب سے کورونا وائرس سے بچاؤ کی تمام احتیاطی تدابیر پر عمل کیا جائے گا جس میں پولیو ورکرز کا ماسک پہننا اور تعیناتی سے قبل بخار چیک کرانا، بچوں کو براہ راست نہ سنبھالنا، گھروں میں داخل نہ ہونا، اہل خانہ کے ساتھ محدود وقت گزارنا اور قلم یا کہنی کے ساتھ دروازے پر کھٹکھٹانا شامل ہیں۔

ترجمان ای او سی سندھ کے مطابق کورونا وائرس کے نتیجے میں مارچ سے جولائی تک پولیو مہم نہیں جلائی جاسکی لیکن اگست 2020 سے بچوں میں قوت مدافعت بڑھانے کے لیے ہر مہینے پولیو مہم جلائی جا رہی ہے، اگر ہم اسی رفتار کے ساتھ پولیو مہم جاری رکھیں گے تو جلد ہی اس کے بہترین نتایج بھی دکھائی دیںگے۔

انہوں نے کہا کہ جولائی 2020 سے سندھ میں پولیو کا کوئی بھی کیس سامنے نہیں آیا، پولیو جیسی بیماریوں سے بچوں کو ویکسینیشن کے ذریعے بچایا جاسکتا ہے اور ہم اس کے بارے میں شعور اجاگر کرنے کے لئے میڈیا کا شکریہ ادا کرتے ہیں، پاکستان اور افغانستان دنیا کے دو ملک رہ گئے ہیں جہاں پولیو اب بھی پایا جاتا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میں سال 2020 میں 84 پولیو کیس رپورٹ ہوئے جن میں سے 22 کیسز سندھ سے ہیں، پاکستان پیڈیاٹرک ایسوسی ایشن، پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسیشن، دنیا بھر کے طبی ماہرین اور پاکستان اور خطے کے بڑے دینی اسکالرز بھی پولیو ویکسین کے حق میں بات کرتے ہیں جو نہ صرف پولیو سے بچاؤ بلکہ ماحول سے اس کے خاتمے کے لئے بھی سب سے محفوظ اور موثر طریقہ ہے، اس ویکسین کی 10 ارب خوراکیں گزشتہ دہائی میں دنیا بھر میں 3 ارب بچوں کو دی گئیں ہیں جس کے نتیجے میں پولیو کے 10 ملین واقعات میں کمی آئی ہے۔