آج مسئلہ حصول اقتدار کا نہیں نظام کی تبدیلی کا ہے ، آئین توڑنے کا سلسلہ ختم ہونا چاہئے ، شاہد خاقان عباسی

ملکی ترقی کا راز اسی میں مضمر ہے کہ ہم آئین پر عمل کریں ، تحریکیں کامیاب ہوتی ہیں ، تاہم ان میں وقت ضرور لگتاہے ، ملک کے نظام کو غیر آئینی طریقے سے چلایا جا رہا ہے
ہمارے ابھی تک جتنے بھی جلسے ہوئے ان میں عوام کی آمد اپنی مثال آپ ہے، ہماری تحریک اپنے مقاصد میں ضرور کامیاب ہو گی، مفاد کی نہیں نظام کی تبدیلی اور آئین کی بات ہے

ملک میں آئین موجود ہے لیکن اس کو توڑا جا رہا ہے ، اگرہم نے آئین کیخلاف کوئی کام کیا ہے تو ہمارے خلاف ایکشن لیں ، ہمارے پروگراموں اور جلسوں کو دکھانے کے حوالے سے میڈیا پر دباءو ہے

اب معاملہ منطقی انجام تک پہنچ کر رہے گا، پیپلزپارٹی پر بھر پور اعتماد ہے ، اگر کوئی علیحدہ ہوتا ہے اتحاد توڑتا ہے تو وہ عوام کے سامنے جوابدہ ہے ، ہمارے مقصد حکومت کو ہٹانا اور الیکشن نہیں نظام کو درست کرنا ہے

لانگ مارچ کا سینیٹ الیکشن سے کوئی تعلق نہیں ، ہمارا معاملہ اس الیکشن سے کہیں بڑا ہے ، جب حکومت یہ قبول کرلے گی کہ ہم نے غلط کیا ہے تو پھر بیٹھ کر بات آگے بڑھ سکتی ہے ، آخر کا سب کو ہی مل بیٹھنا ہو گا
جو کام میں اور خواجہ صاحب مل کر کرتے تھے، وہ کام آج چار لوگ مل کر کرتے ہیں مشیران کے علاوہ ہیں ، تھرڈ پارٹی چیکنگ اچھی بات ہے ، حکومت جو اچھا کام کرے گی ہم اس کے ساتھ ہیں ’’سچی بات‘‘ میں گفتگو

اسلام آباد(روزنیوزرپورٹ)آج مسئلہ اقتدار کے حصول کا نہیں نظام کی تبدیلی کا ہے ، آئین کو توڑنے کا سلسلہ ختم ہونا چاہئے، ملکی ترقی کا راز اسی میں مضمر ہے کہ ہم آئین پر عمل کریں ، تحریکیں کامیاب ہوتی ہیں ، تاہم ان میں وقت ضرور لگتاہے ، ملک کے نظام کو غیر آئینی طریقے سے چلایا جا رہا ہے ، ہمارے ابھی تک چھ جلسے ہوئے وہ عوام کی آمد کے اعتبار سے اپنی مثال آپ ہیں ،لوگوں کا جذبہ انتہائی مثالی تھا، ہماری تحریک اپنے مقاصد میں ضرور کامیاب ہو گی، یہ مفاد کی نہیں نظام کی تبدیلی اور آئین کی بات ہے ، روزنیوز کے پروگرام ’’ سچی بات ‘‘ میں ایس کے نیازی کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم اور ن لیگ کے رہنما شاہد خاقان عباسی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں آئین تو موجود ہے لیکن اس کو توڑا جا رہا ہے ، ہم کہتے ہیں اگر ہم نے آئین کیخلاف کوئی کام کیا ہے تو ہمارے ایکشن لیں ، ایل این جی بات کرتے ہیں تو اس پر ایکشن لینا چاہئے ، حکومت آئین توڑ رہی ہے ، ہمارے پروگراموں کو دکھانے کے حوالے سے میڈیا پر دباءو ہے ، انہیں فون کر کے منع کیا جاتا ہے کہ ن لیگ کے جلسوں کی کوریج نہ کی جائے، نیازی صاحب آپ نے ہمارے جلسے دکھائے ہم آپ کا شکریہ ادا کرتے ہیں ، آپ کے علاوہ اور بھی 100چینلز ہیں ان کو کہا گیا کے ہمارے پروگراموں کو نہ دکھایا جائے، اب معاملہ منطقی انجام تک پہنچ کر رہے گا، پیپلزپارٹی پر بھر پور اعتماد ہے ، اگر کوئی علیحدہ ہوتا ہے اتحاد توڑتا ہے تو وہ عوام کے سامنے جوابدہ ہے ، ہمارے مقصد حکومت کو ہٹانا اور الیکشن نہیں مسئلہ نظام کو درست کرنے کا ہے ، جو ماضی میں ہوتا رہا ہے وہ بھی درست نہیں تھا، ایک ٹروتھ کمیشن بنا دیا جائے اس کے سامنے ہر سچ بات رکھ دیں ، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ لانگ مارچ کا سینیٹ الیکشن سے کوئی تعلق نہیں ، ہمارا معاملہ اس الیکشن سے کہیں بڑا ہے ، اب حکومت سے کوئی ڈائیلاگ نہیں ہو گا، اداروں سے بھی مذاکرات نہیں ہونگے، جب یہ لوگ قبول کر لیں گے کہ ہم نے غلط کیا ہے تو پھر بیٹھ کر بات آگے بڑھ سکتی ہے ، آخر کا سب کو ہی مل بیٹھنا ہو گا، شاہد خاقان عباسی نے کہاکہ حکومت خرابی کا حصہ ہے اور خرابی سے کوئی ڈائیلاگ نہیں ہوتا، مذاکرات ہونگے ، آج نہیں تو کل ہونگے، لیکن یہ تسلیم کرنا ہو گا کہ ہم نے جو کیا وہ غلط کیا، نیازی صاحب آپ دیکھیں اس ملک میں مارشل لاء بھی لگے ، جمہوریت بھی چلی، صدارتی نظام بھی آئے لیکن خطے کی صورتحال دیکھیں ہمارے پڑوسی ممالک ترقی کر کے کہاں سے کہاں پہنچ چکے ہیں ، اور ہم آئین پر ہی عمل پیرا نہیں ہیں ، ہم چاہتے ہیں کہ حکومت آئین کے تحت چلے ، اگر یہ معاملات اسی طرح چلے ، میڈیا کو دبایا جاتا رہا تو پھر نظام نہیں چل سکتا، عدلیہ کے حوالے سے اس وقت وہ باتیں ہو رہی ہیں جن کاماضی میں کوئی نام و نشان نہیں تھا، اگر ماضی میں کوئی بات ہوئی تو وہ کسی فرد کے بارے ہوئی، ایل این جی کے حوالے سے انہوں نے طنزیہ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایل این جی تو ایک بری چیز ہیں صرف جنوری کے ماہ میں ایل این جی کے امپورٹ میں 25ارب کا نقصان ہوگا، بجلی علیحدہ بنائی جائے گی، یہ عوام کا نقصان ہے ،حکومت کا کام ہے کہ وہ کام کرے ، سستی بجلی بھی ایل این جی سے بنتی ہے، جب آپ ایل این جی امپورٹ نہیں کریں گے تو تیل سے پاور پلانٹ چلائیں گے ، جو کام میں اور خواجہ صاحب مل کر کرتے تھے، وہ کام آج چار لوگ مل کر کرتے ہیں مشیر اس کے علاوہ ہیں ، جب بہت زیادہ چیک اینڈ بیلنس ہو تو حالات خراب ہوتے ہیں ، انہوں نے کہا کہ تھرڈ پارٹی چیکنگ اچھی بات ہے ، حکومت جو اچھا کام کرے گی ہم اس کے ساتھ ہیں ، بل زیادہ آنے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ جب ریٹ بڑھا دیئے جائیں تو پھر بل زیادہ ہیں آئیں گے ، ہر چیز کا حل موجود ہے اگر آپ کی نیت درست ہو ، حکومت بے تحاشا جھوٹ بولتی ہے ، سرکلر ڈیڈ 25ارب کو کراس کر گیا ہے ، حکومت کا کوئی بھی ایسا شعبہ نہیں جہاں ترقی ہوئی ہو، جب آئین کو توڑ اجائے گا تو پھر اسی طرح کے حالا ت پیدا ہونگے ۔