ذہنی مریض کو سزائے موت کیوں نہیں دی جا سکتی؟ سپریم کورٹ نے معاونت طلب کرلی

ذہنی امراض کے شکار ملزمان کو سزائے موت کیوں نہیں دی جا سکتی؟ سپریم کورٹ نے ماہر نفسیات اور وکلاء سے مشاورت طلب کرلی۔ذہنی امراض کے شکار ملزمان کو سزائے موت کیوں نہیں دی جا سکتی؟ اگر عدالت میں یہ ثابت ہو جائے کہ جرم کے وقت ملزمان تندرست تھے تو کیا سزا ختم ہو جاتی ہے؟ جسٹس اعجاز الاحسن نے سپریم کورٹ میں ذہنی مریضوں کی سزائے موت کے خلاف دائر اپیلوں پر سماعت کے دوران یہ ریمارکس دیے۔

جسٹس منظورملک نے ریمارکس دیے کہ اگر ذہنی امراض کے شکار ملزمان کی سزائے موت ختم کر دی جائے تو یہ باقی سزا کہاں گزاریں گے؟ جرم سے پہلے اور جرم کے بعد بیماری کا ہونا دو الگ الگ صورتیں ہیں، کیس میں نامزد ملزمان کی ذہنی حالت کو ٹرائل کورٹ سے سپریم کورٹ تک کسی سطح پر نہیں دیکھا گیا، عدالت کو معاونت نہ ہونے پر ملزم پھانسی چڑھ جائے گا، ریاست نے ملزمان کو سزائے موت دلوائی اور پھر اس سزا کے درست یا غلط ہونے کے تعین کے لیے درخواست دائر کردی۔

جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ اگر علاج کے بعد ملزمان کی حالت بہتر ہوتی ہے تو کیا انہیں سزائے موت دی جا سکے گی؟ ملزمان علاج بھی کرالیں تو وہ عمر قید کی سزا ہی کاٹ رہے ہوں گے ، یہ ممکن نہیں کہ ملزمان کی سزائے موت ختم کر کے کہیں اور بھیج دیا جائے۔