حکومت کا سینیٹ انتخابات مارچ کی بجائے فروری میں کرانے کا فیصلہ

وفاقی حکومت نے پاکستان کے ایوان بالا (سینیٹ) کے انتخابات مارچ کی بجائے فروری میں کرانے کا فیصلہ کرلیا۔وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں ملکی سیاسی، معاشی صورتحال پر غور کیا گیا اور کئی اہم فیصلے کیے گئے۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں سینیٹ انتخابات مارچ کی بجائے فروری میں کرانے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ وفاقی حکومت نے سینیٹ انتخابات کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا بھی فیصلہ کیا۔پی ڈی ایم نے حکومت کو 31 جنوری تک مستعفی ہونے کی مہلت دے دی

ذرائع نے بتایا کہ وفاقی حکومت نے سینیٹ انتخابات اوپن ووٹ (شو آف ہینڈز) سے کرانے کا فیصلہ بھی کیا جبکہ اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے کابینہ میں تجاویز پیش کیں۔ذرائع کے مطابق وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے سینیٹ انتخابات مارچ کی بجائے فروری میں کروانے کی تجویز پیش کی تاہم انہوں نے سینیٹ انتخابات اوپن ووٹ کرانے کے معاملے پر سپریم کورٹ جانے کی تجویز کی مخالفت کی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ فواد چوہدری نے تجویز پیش کی کہ انتخابی اصلاحات کیلئے اپوزیشن سے بات کی جائے۔اس پر وزیراعظم نے کہا کہ انتخابی اصلاحات کیلئے اپوزیشن سے بات چیت کو تیار ہیں، اپوزیشن سے بات چیت کرتےہیں تو وہ کہتے ہیں کیسز ختم کیے جائیں۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے پارلیمانی امور بابر اعوان نے بھی آئینی اور سیاسی پہلوؤں پر بریفنگ دی۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) نے حکومت کو مستعفی ہونے کیلئے 31 جنوری تک کی مہلت دی رکھی ہے جبکہ اپنے قومی و صوبائی اسمبلیوں کے ارکان کو 31 دسمبر تک استعفے جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔اپوزیشن اتحاد کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اعلان کرچکے ہیں کہ 31 جنوری تک استعفے نہیں دیے تو یکم فروری کو مارچ کا اعلان کریں گے اور استفعے ساتھ لیکر جائیں گے۔وہیں ملک میں سینیٹ انتخابات مارچ میں ہونے ہیں تاہم اپوزیشن کے 400 سے زائد ارکان کے ممکنہ طور پر مستعفی ہوجانے کے بعد الیکشن کا وقت پر انعقاد مشکل ہوجائے گا۔