پی ڈی ایم میں اتفاق نہیں ، قیادت کے پاس استعفے پہنچانا صرف دکھاوا ہے ، شاہ محمود قریشی

اگر آپ استعفوں میں سنجیدہ ہیں تو پھر 31 تاریخ کو استعفے اسپیکر کے پاس پہنچنے چاہئیں ، اپوزیشن میں میں لانگ مارچ ، استعفے ، ریلیاں اور دیگر معاملات پر یکسوئی نہیں پائی جاتی ، یہ لاہور جلسے کے بعد مایوسی کا شکار ہیں ، وزیر خارجہ کی پریس کانفرنس

اسلام آباد وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پی ڈی ایم کی صفوں میں استعفوں پر ابہام ہے ، قیادت کے پاس استعفے پہنچانا صرف دکھاوا ہے ، لانگ مارچ پر بھی ابھی تک پی ڈی ایم میں اتفاق نہیں ہے ، جاتی امرا میں بھی یہ بات کی گئی کہ یکم فروری کو تاریخ دی جائے گی ، کیوں کہ ان میں لانگ مارچ ، استعفے ، ریلیاں اور دیگر معاملات پر یکسوئی نہیں پائی جاتی ، اگر آپ استعفوں میں سنجیدہ ہیں تو پھر 31 تاریخ کو استعفے اسپیکر کے پاس پہنچنے چاہییں۔
تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کے استعفی ٰکا مطالبہ کس قانون کے تحت کیا گیا اور وزیراعظم کیا آپ کے کہنے پر استعفیٰ دیں گے؟ آپ کے کہنے پر حکومت مستعفی ہوجائے ، کیوں ہو جائے؟ حکومت کے پاس عوام کا مینڈیٹ ہے ۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ پیپلزپارٹی استعفوں کے حوالے سے ابہام کا شکار ہے ، پیپلزپارٹی کے فیصلے بلاول نہیں آصف زرداری کرتے ہیں ، واضح کہہ رہا ہوں پیپلزپارٹی نے استعفو ں کا فیصلہ نہیں کیا ، جب کہ ن لیگ میں دو سوچ کے حامل لوگ پائے جاتے ہیں ، استعفوں کے معاملے پر ن لیگ بھی تقسیم ہے ان میں واضح دو دھڑے دکھائی دے رہے ہیں ، ن لیگ میں کچھ خواتین اور حضرات مریم بی بی کی سوچ کی عکاسی کرتے ہیں اور دوسری سوچ شہبازشریف کی ہے ۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پی ڈی ایم کو لوگوں کو اکھٹا کرنے میں ناکامی کے سوا کچھ نہیں ملا ، پی ڈی ایم سے ہوا کچھ نہیں میڈیا پر الزام لگادیا کہ ناانصافی کررہا ہے ، میڈیا آپ کے حق میں بات کرتاہو آپ کوپسند آتا ہے ،آپ کے خلاف ہوتو تنقید بن جاتی ہے ، حقیقیت یہ ہے کہ پی ڈی ایم جلسے میں جان ہوتی تو اسٹاک مارکیٹ نیچے آتی ، لاہور جلسے کو تاریخی کہا گیا لیکن اس میں کوئی نئی بات نہیں ہوئی ، جلسے کے بعد پی ڈی ایم صفوں میں مایوسی ہے ، پی ڈی ایم کو غور کرنا چاہیے لوگ ان کے ساتھ کیوں نہیں تھے ، لاہوری موبلائز ہو جاتے تو یہ مایوسی یہ خفت نہ اٹھانی پڑتی۔