حکومت اپوزیشن دونوں کو جلسے نہیں کرنے چاہئیں ، اجتماعات سے کرونا مزید پھیلنے کا خدشہ ہے ، پی ڈی ایم کی جانب سے امکانات ہیں وہ استعفے دے دیں

لاہور میں پی ڈی ایم کا جلسہ نہیں ہونا چاہئے تھا، کیونکہ کرونا کی دوسری لہر خطرناک ہے ، لاہور جلسے میں عوام بہت تعداد میں آئی، پی ڈی ایم جماعتوں میں اتحاد ہے ، ان کا موقف اور منزل ایک ہے,پاکستان ڈیمو کریٹک الائنس کی جانب سے استعفے دیئے جاتے ہیں تو ضمنی انتخابات کا کرانا بہت بڑا مسئلہ ہو گا، حکومت کو چاہئے وہ ایسے اقدام سے قبل ہی مذاکرات کا راستہ نکالے

لانگ مارچ سے قبل افہام و تفہیم کا راستہ نکالنا چاہئے ، اتنے بڑے بڑے یوٹرن لیے گئے اس مسئلے پر بھی یو ٹرن لے لیا جائے تو کوئی بڑی بات نہیں ، حکومت کی خواہش ہوگی وہ عوام کو ریلیف دے,شیخ رشید کے حوالے سے حکومت نے اچھا فیصلہ لیا ہے ، شیخ صاحب کوشش کریں وہ عمران خان کیلئے اچھے ثابت ہوں ، شیخ رشید کے آنے کے بعد ممکن ہے حالات اچھے ہوجائیں

کچھ کرپشن کے ایسے مقدمات تھے جس میں تحقیقات کی ضرورت نہ تھی، مگر حکومت نے کچھ نہ کیا، نواز ، شہباز کا ایک ہی بیانیہ ہے
پیپلز پارٹی سندھ سے استعفے نہیں دی گی ، ہ میں مثبت اقدامات اٹھانے چاہئےں ، سیاسی باتوں کو وزن نہیں دینا چاہئے

اسلام آباد(رونیوزرپورٹ)لاہور میں پی ڈی ایم کا جلسہ نہیں ہونا چاہئے تھا، کیونکہ کرونا کی دوسری لہر خطرناک ہے ، لاہور جلسے میں عوام بہت تعداد میں آئی، پی ڈی ایم جماعتوں میں اتحاد ہے ، ان کا موقف اور منزل ایک ہے ، سردیوں میں اتنے لوگوں کو نہیں نکلنا چاہئے ، حکومت اپوزیشن دونوں کو جلسے نہیں کرنے چاہئیں ، اجتماعات سے کرونا مزید پھیلنے کا خدشہ ہے ، پی ڈی ایم کی جانب سے امکانات ہیں کہ وہ استعفے دے دیں ، اگر ایسا ہوتا ہے ضمنی انتخابات کا کرانا بہت بڑا مسئلہ ہے ، پاکستان گروپ آف نیوز پیپرز کے چیف ایڈیٹر اور روزنیوز کے چیئرمین ایس کے نیازی نے پروگرام ’’سچی بات ‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ لانگ مارچ اور استعفے دونوں ہو سکتے ہیں ، حکومت کو چاہئے کہ وہ مذاکرات کا راستہ نکالیں ، لانگ مارچ سے قبل افہام تفہیم کا راستہ نکالنا چاہئے ، اتنے بڑے بڑے یوٹرن لیے گئے اس مسئلے پر بھی یو ٹرن لے لیا جائے تو کوئی بڑی بات نہیں ، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حکومت کی خواہش ہوگی کہ وہ ڈیلوری کرے ، عوام کو ریلیف دے ، حکومت نہیں چاہے گی کہ اسے وقت نہ ملے، حکومت اپوزیشن جلسے کر رہی ہے ، حکومت وقت پورا کرے گی ، سینیٹ الیکشن میں بھی حکومت کی کوشش ہو گی کہ وہ مزید مضبوط ہو ، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ شیخ رشید کے حوالے سے حکومت نے اچھا فیصلہ لیا ہے ، شیخ صاحب کوشش کریں کہ وہ عمران خان کیلئے اچھے ثبت ہوں ، شیخ رشید کے آنے کے بعد ممکن ہے حالات اچھے ہوں ، انہوں نے کہا کہ حکومت فیل اس لئے ہوتی ہے کہ اپوزیشن کے خلاف حکومت موثر ایکشن نے لے سکی، کچھ کرپشن کے ایسے مقدمات تھے جس میں تحقیقات کی ضرورت نہ تھی، مگر حکومت نے کچھ نہ کیا، عمران کی ٹائیگر اور شیرو کے تصاویر کے حوالے سے کہا کہ حیرانگی کی بات ہے کہ تصویر بنوائی، کیوں کے آءوٹ ہوئی، سوال ہے ہے انسان کو کھانے کیلئے اور وزیر اعظم کتے کو کھانا کھلا رہے ہیں ، بلاول ، شہباز ملاقات کے حوالے سے کہا کہ ن کے معاملات مریم اور نواز شریف کے پاس ہیں ، یقینی طور پر ن لیگ میں رسہ کشی ہے ، نواز ، شہباز کا ایک ہی بیانیہ ہے ، دو تین سال تک ن لیگ کا کوئی فیوچر نہیں ، پیپلزپارٹی کوئی نہ کوئی مفاد لیکر علیحدہ ہو جائے گی، اور زیادہ دیر تک پی ڈی ایم کے ساتھ نہیں چلے گی ۔