friend daughter sucking sideways big rod.videos porno
desi porn
pornoxxx

پشاور: مزار حملہ کیس میں نامزد ملزم بری

پشاور: انسداد دہشت گردی عدالت نے ایک دہائی قبل پشاور کے مضافات میں ایک مزار پر حملے کے الزام کا سامنا کرنے والے مبینہ عسکریت پسند کمانڈر کو بری کردیا۔ ٹرائل کو مکمل کرتے ہوئے عدالت نے فیصلہ سنایا کہ استغاثہ ملزم گلبت ملک دین خیل کے خلاف الزام ثابت نہیں کرسکا جبکہ ریکارڈ پر موجود ثبوت جرم سے ثابت جرم سے نہیں جڑتے۔ ساتھ ہی عدالت نے کیس میں مفرور ملزم کالعدم لشکر اسلام کے سربراہ منگل باغ اور ان کے ساتھی طیب آفریدی کے دائمی وارنٹ گرفتاری جاری کردیے۔

واضح رہے کہ 3 مارچ 2008 کو متعدد عسکریت پسندوں نے گاؤں شیخاں میں واقع ایک مزار پر راکٹ لانچرز، دستی بموں اور سیمی مشینز گنز سمیت بھاری ہتھیاروں سے حملہ کیا تھا۔ انہوں نے مزار کو منہدم کرتے ہوئے 15 لوگوں کو قتل اور 10 کو زخمی کردیا تھا۔ بعدازاں تھانہ بڈھ بیر میں تعزیرات پاکستان کی دفعات 302، 324، 427 اور 436، انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 7 اور دھماکا خیز مواد ایکٹ کی دفعات 3 اور 4 کے تحت واقعہ کی ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔

ادھر ملزم کے وکیل شبیر حسین گیگیانی نے کہا کہ پولیس نے رواں سال جنوری میں ان کے وکیل کو گرفتار کیا اور الزام لگایا کہ وہ منگل باغ کے بعد کمانڈر تھا۔ انہوں نے کہا کہ تحقیقاتی ٹيم حملے کی جگہ پر ایک روز بعد پہنچی تھیں حالانکہ یہ جگہ پشاور کے اندر واقع تھی۔ وکیل کا کہنا تھا کہ استغاثہ یہ ثابت کرنے کے لیے کہ ان کے موکل وہی گلبت ملک دین خیل ہے جس پر ایف آئی آر میں الزام ہے، کوئی ثبوت پیش نہیں کرسکا۔

انہوں نے کہا کہ پولیس نے ایف آئی آر ار تفتیش میں ملزم گلبت کے والدین کا ذکر نہیں کیا۔ وکیل کے مطابق قبائلی ضلع خیبر کے علاقے باڑا میں گلبت ایک عام نام ہے اور ملزم کے والدین کا پتہ لگائے بغیر یہ نہیں کہا جاسکتا کہ یہ وہی گلبت تھا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کیس کا مدعی ارشاد جس کا بھائی حملے میں مارا گیا تھا وہ اور ایک زخمی شخص جو استغاثہ کے گواہ کے طور پر پیش ہوا تھا انہوں نے نہ تو ان کے موکل کو پہنچانا اور نہ یہ کہا کہ انہوں نے حملے کے مقام پر اسے دیکھا تھا۔

وکیل کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگرچہ حملے میں بھاری ہتھیار استعمال ہوئے تھے لیکن تحقیقاتی ٹیم کو مزار سے کوئی خول نہیں ملے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کیس میں ناقص تفتیش کی گئی اور الزمات کی بنیاد پر ایک شخص کو سزا نہیں دی جاسکتی۔اس موقع پر سرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ ملزم پر ایف آئی آر میں الزام لگایا تھا تھا اور وہ ایک دہائی سے مفرور ہے۔

spanish flamenca dancer rides black cock.sex aunty
https://www.motphim.cc/
prmovies teen dildo wet blonde stunner does it on the hood of car.