تحریک لبیک پاکستان کے مرحوم سربراہ خادم رضوی کی جانشینی پر تنازع

لاہور: تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے بانی رہنما اور سابق سرپرست اعلیٰ پیر افضل قادری نے خادم رضوی کی وفات کے بعد ان کے بیٹے سعد حسین رضوی کی جانشینی پر سوال اٹھاتے ہوئے پارٹی کی قیادت کے حوالے سے تنازع کو جنم دے دیا۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے ایک کلپ میں پیر افضل قادری نے سعد حسین رضوی کو ‘ذہنی طور پر بیمار’ قرار دیا۔ پیر افضل قادری ویڈیو کلپ میں کسی جگہ خطاب کرتے نظر آئے جس میں انہوں نے سعد رضوی کی مذہبی قابلیت پر سوال اٹھاتے ہوئے الزام عائد کیا کہ وہ حافظ بھی نہیں ہیں جیسا کہ انہیں ان کے پیروکار سمجھتے ہیں۔

خود کو پارٹی کا ماسٹر مائنڈ اور وہ شخص کہ جس نے پارٹی کے سب سے زیادہ کام کیا قرار دیتے ہوئے پیر افضل قادری کا کہنا تھا کہ ان کے اور مرحوم رہنما کے درمیان باہمی طور پر اتفاق ہوا تھا کہ پارٹی میں اقربا پروری کی اجازت نہیں دی جائے گی اور قیادت بانیوں کے رشتہ داروں کو نہیں دی جائے گی۔ ‘میں اکیلا تھا کہ جس نے آسیہ بی بی کے خلاف ممتاز قادری کے لیے مہم چلائی، مجھے اس تحریک کی وجہ سے 106 مقدمات میں نامزد کیا گیا، ممتاز قادری کی پھانسی کے بعد ہر کوئی سمجھا کہ تحریک ختم ہوگئی لیکن میں نے اس کا نام تبدیل کر کے اسے جاری رکھا’۔

پیر افضل قادری نے دعویٰ کیا کہ خادم رضوی کو معلوم تھا کہ ان کا بیٹا نااہل ہے اور وہ مجھ سے سعد کے لیے دعا کرنے کا کہتے تھے جو مبینہ طور پر ذہنی بیمار، نشے کا عادی ہے اور اس نے اپنی تعلیم بھی مکمل نہیں کی۔ پیر افضال قادری کی سخت باتوں کا جواب دیتے ہوئے تحریک لبیک پاکستان کے ترجمان زبیر احمد نے کہا کہ جب گزشتہ برس مئی میں پارٹی کے خلاف کریک ڈاؤن میں انہیں گرفتار کیا گیا تھا اس وقت انہوں نے استعفیٰ دے دیا تھا۔ انہوں نے کہا سعد رضوی کو تحریک لبیک پاکستان کی مشاورتی شوریٰ نے سابق سربراہ کے جنازے سے کچھ دیر قبل ہی سربراہ منتخب کیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پارٹی کا سربراہ منتخب کرنے کا اختیار صرف مجلس شوریٰ کو حاصل ہے اور سعد اب پارٹی کے قانونی سربراہ ہیں اور تنازع کھڑے کرنے کی ایسی کوششوں پر افسوس ہی کیا جاسکتا ہے۔