منی لانڈرنگ ریفرنس: شہباز شریف کی بیٹی، داماد اور بیٹا اشتہاری قرار

لاہور کی احتساب عدالت نے منی لانڈرنگ ریفرنس میں مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کی بیٹی رابعہ عمران، داماد ہارون یوسف اور بیٹے سلمان شہباز کو اشتہاری قرار دے دیا۔ احتساب عدالت کے جج جواد الحسن نے شہباز شریف اور ان کے اہلِ خانہ کے خلاف منی لانڈرنگ ریفرنس کی سماعت کی۔ عدالت نے شہباز شریف کی اہلیہ نصرت شہباز کو سماعت میں پیش ہونے کا آخری موقع دے دیا۔ سماعت کے آغاز میں احتساب عدالت کے جج اور قومی احتساب بیورو (نیب) کے وکیل عثمان جی راشد چیمہ نے شہباز شریف سے ان کی والدہ کی وفات پر تعزیت کی۔

نیب کی جانب سے 3 گواہ طیب زوار، خالد محمود اور فیصل بلال بیان دینے کے لیے ذاتی حیثیت میں احتساب عدالت میں پیش ہوئے۔ سماعت میں نیب کے گواہ بلال فیصل نے اپنا بیان دیتے ہوئے کہا کہ سال 2019 سے پنجاب اسمبلی میں ڈپٹی سیکریٹری بجٹ اینڈ اکاؤنٹس کے عہدے پر تعینات ہوں۔ انہوں نے بتایا کہ نیب لاہور کی جانب سے میاں شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے حوالے سے لیٹر موصول ہوا تھا جس میں ان کی بطور رکن صوبائی اسمبلی حاصر کردہ تنخواہوں اور مراعات کا ریکارڈ مانگا گیا تھا۔ گواہ نے عدالت کو بتایا کہ دونوں ملزمان کا ریکارڈ اکھٹا کر کے نیب لاہور کو ارسال کر دیا۔ گواہ نے بتایا کہ نیب لاہور کی جانب سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا گیا کہ آپ کو ریکارڈ جمع کروانے کے لیے ذاتی حیثیت میں پیش ہونا ہو گا جس پر میں نے 29 اپریل 2020 کو پیش ہو کر تفتیشی افسر حامد جاوید کو نیب لاہور میں اصل اور مکمل ریکارڈ فراہم کردیا۔

بعدازاں نیب کے پیش کردہ تینوں گواہان نے منی لانڈرنگ ریفرنس میں اپنے مکمل بیانات قلمبند کرا دیے۔ احتساب عدالت کے جج نے کہا کہ 30 روز پورے ہو گئے ہیں ملزمان اب تک عدالت میں پیش نہیں ہوئے، تمام ملزمان کو بذریعہ اشتہار بھی طلب کیا گیا اس کے باوجود پیش نہ ہوئے۔ چنانچہ جج جواد الحسن نے سماعت میں طلب کیے جانے کے باوجود ملزمان کی غیر حاضری پر انہیں اشتہاری قرار دے دیا۔ بعدازاں احتساب عدالت نے آئندہ سماعت پر نیب کے گواہوں پر جرح کرنے کا حکم دیتے ہوئے شہباز شریف خاندان کے خلاف منی لانڈرنگ ریفرنس کی سماعت 3 دسمبر تک ملتوی کردی۔ دوران سماعت ملزم حمزہ شہباز کی جانب سے عدالت پہنچانے والے گاڑی میں بریکس نہ ہونے کی شکایت پر عدالت نے انہیں تحریری طور پر درخواست دینے کی ہدایت کی۔

خیال رہے کہ 17 اگست کو نیب نے احتساب عدالت میں شہباز شریف، ان کے دو بیٹوں اور کنبے کے دیگر افراد کے خلاف منی لانڈرنگ کا 8 ارب روپے کا ریفرنس دائر کیا تھا۔ بعد ازاں 20 اگست کو لاہور کی احتساب عدالت نے شہباز شریف اور ان کے اہل خانہ کے خلاف منی لانڈرنگ ریفرنس سماعت کے لیے منظور کیا تھا۔ ریفرنس میں بنیادی طور پر شہباز شریف پر الزام عائد کیا گیا کہ وہ اپنے خاندان کے اراکین اور بے نامی دار کے نام پر رکھے ہوئے اثاثوں سے فائدہ اٹھا رہے ہیں جن کے پاس اس طرح کے اثاثوں کے حصول کے لیے کوئی وسائل نہیں تھے۔

اس میں کہا گیا کہ شہباز خاندان کے کنبے کے افراد اور بے نامی داروں کو اربوں کی جعلی غیر ملکی ترسیلات ان کے ذاتی بینک کھاتوں میں ملی ہیں، ان ترسیلات زر کے علاوہ بیورو نے کہا کہ اربوں روپے غیر ملکی تنخواہ کے آرڈر کے ذریعے لوٹائے گئے جو حمزہ اور سلیمان کے ذاتی بینک کھاتوں میں جمع تھے۔ ریفرنس میں مزید کہا گیا کہ شہباز شریف کا کنبہ اثاثوں کے حصول کے لیے استعمال ہونے والے فنڈز کے ذرائع کا جواز پیش کرنے میں ناکام رہا۔

اس میں کہا گیا کہ ملزمان نے بدعنوانی اور کرپٹ سرگرمیوں کے جرائم کا ارتکاب کیا جیسا کہ قومی احتساب آرڈیننس 1999 کی دفعات اور منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 میں درج کیا گیا تھا اور عدالت سے درخواست کی گئی کہ انہیں قانون کے تحت سزا دے۔ مذکورہ ریفرنس میں شہباز شریف ان کے صاحبزادے حمزہ شہباز شریف سمیت 10 ملزمان پر 11 نومبر کو فرد جرم عائد کی گئی تھی۔