کنفرم آرڈر نہ ہو تو فالتو ایل این جی لیکر کیا ہوا میں چھوڑیں: ندیم بابر

وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے پیٹرولیم ڈویژن ندیم بابر کا کہنا ہے کہ مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کے کنفرم آرڈر نہ ہوں تو ایل این جی لاکر کیا کریں گے؟فالتو ایل این جی لے کر کیا ہوا میں چھوڑیں؟

وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے معاون خصوصی ندیم بابر کا کہنا تھا کہ پچھلی حکومت میں ایل این جی کو پیٹرولیم پروڈکٹ ڈکلیئر کیا گیا تھا اور ایل این جی کے لانگ ٹرم معاہدے کیے گئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ ایل این جی کے کنفرم آرڈر نہ ہوں تو ایل این جی لاکر کیا کریں گے، فالتو ایل این جی لے کر کیا کریں؟ کیا ایل این جی ہوا میں چھوڑیں، ایسے ایل این جی تو نہیں لاسکتے جب کوئی خریدارنہ ہو اور ہم 1150 روپے میں خرید کرایل این جی 150 روپے میں فی یونٹ نہیں بیچ سکتے۔ ندیم بابر کا کہنا تھا کہ ایل این جی کی قیمت میں گرمیوں میں کمی اور سردیوں میں اضافہ ہوتا ہے، بیچنے والے احمق نہیں، کیا انہیں نہیں معلوم کہ سردیوں میں قیمت بڑھ جاتی ہے، موجودہ حکومت نے اب تک ایل این جی کے اسپاٹ ٹینڈر کے ذریعے 35 کارگو منگوائے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سابق حکومت نے قطر کے ساتھ ایل این جی کا سودا 13.37 فیصد خام تیل کے برابرکیا لیکن ہماری اسپاٹ پرخریدی ایل این جی کی اوسط قیمت خام تیل کی قیمت کے 10.4 فیصد کے برابر بنتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایل این جی کے ٹرمینل سارا سال پوری صلاحیت پر نہیں چلتے، ہم اس طرز پر مزید ٹرمینل نہیں لگائیں گے جس طرح سابق حکومت نے لگائے۔ خیال رہے کہ سوئی سدرن گیس کمپنی (ایس ایس جی سی) اور سوئی ناردرن گیس کمپنی نے رواں سال سردیوں میں بڑے پیمانے پر گیس قلت کے خدشےکا اظہار کیا ہے۔ اس سے قبل وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب خان بھی سردیوں میں گیس کے سنگین بحران کا خدشہ ظاہر کرچکے ہیں۔