کراچی: ماسک نہ پہننے پر جرمانے کی مہم بے سود

کراچی: عوامی مقامات پر چہرے پر ماسک نہ پہننے پر 500 روپے جرمانہ عائد کرنے کا حکومتی فیصلہ کسی قسم کا اثر پیدا کرنے میں ناکام رہا ہے کیوں کہ دو ہفتوں سے زیادہ عرصے میں بدلیہ اور ضلعی انتظامیہ کے عہدیداروں نے معیاری آپریٹنگ طریقہ کار (ایس او پیز) کی خلاف ورزی پر صرف 54 افراد پر جرمانہ عائد کیا ہے جس سے یہ یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ اقدام ناقابل عمل ہے اور اس سے مطلوبہ نتائج لانا تقریباً ناممکن ہے۔

ملک میں کورونا وائرس کی دوسری لہر کے دوران کیسز میں اضافے کے پیش نظر نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر (این سی او سی) نے رواں ماہ کے آغاز میں نئے گائیڈ لائنز جاری کیے تھے جس کے تحت بند کمروں میں شادیوں پر پابندی عائد کی گئی تھی، ماسک نہ پہنے پر جرمانے کی اجازت دی گئی تھی سرکاری اور نجی اداروں کے 50 فیصد عملے کو ‘گھر سے کام’ کرنے کی اجازت دینا شامل تھا۔بعدازاں کمشنر کراچی افتخار علی شلوانی نے انتظامیہ کو ہدایت کی تھی کہ وہ عوامی مقامات پر ماسک نہیں پہننے والے افراد کے خلاف سخت کارروائی کریں اور ایس او پیز کی خلاف ورزی کرنے پر ان پر 500 روپے جرمانہ عائد کریں۔

صرف کراچی میں اتنا بڑا جرمانہ عائد کرنے کے فیصلے نے کئی افراد کو حیرت میں ڈال دیا تھا تاہم یہ ناکام ہوگیا ہے کیونکہ بڑی تعداد لوگ میں ماہرین صحت اور عہدیداروں کے مشورے کو بڑی حد تک نظرانداز کررہے ہیں۔اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ مقامی انتظامیہ خود عوامی مقامات پر ماسک پہننا لازمی قرار نہیں دے سکی ہے۔

کمشنر آفس کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ ‘مہم کے آغاز سے اب تک کراچی بھر میں صرف 54 افراد پر جرمانہ عائد کیا گیا، ان 26 کو ضلع وسطی میں، 15 کو ملیر میں اور 13 کو جنوب میں جرمانہ عائد کیا گیا’انہوں نے کہا کہ این سی او سی نے صوبوں سے کہا ہے کہ وہ اپنے مخصوص طریقہ کار کے تحت اپنی نئی ہدایات پر عمل درآمد کرائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں کورونا وائرس کی تشویشناک صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے تمام کاروباری، سماجی، مذہبی، تعلیمی اور دیگر اداروں میں ایس او پیز پر سختی سے عمل درآمد کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور عدم تعمیل کی صورت میں حکام کو سخت کارروائی کرنے کی ہدایت کی تھی۔انہوں نے کہا کہ اسی شام کمشنر آفس نے ماسک نہ پہننے پر 500 روپے جرمانہ عائد کرنے کا اعلان کیا تھا۔

عہدیدار کا کہنا تھا کہ اگلے ہی دن ضلع وسطی میں یہ جرمانے عائد کردیئے گئے تھے اور ماسک کے بغیر لوگوں کو ضلعی انتظامیہ کی بے ترتیب موبائل ٹیموں نے دیکھا اور ان پر جرمانہ عائد کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ ‘تاہم یہ اقدام قلیل المدت ثابت ہوا، یہ کوئی جرم نہیں ہے اور ایس او پیز پر عمل کرنے یا ماسک پہننے کے لیے کسی کو صرف زبانی طور پر درخواست یا قائل کیا جاسکتا ہے، ہم کاروباری اداروں کو وقت کی پیروی کرنے کے لیے کہہ سکتے ہیں، ہم ریستورانٹس یا شاپنگ سینٹرز کو ہدایت جاری کرسکتے ہیں کہ وہ محدود تعداد میں لوگوں کو ان سہولیات میں آنے کی اجازت دیں تاہم ہم سب کو ماسک پہننے کے لیے نہیں کہہ سکتے ہیں’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘عوام کو خود کچھ ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا، جب ضلع غربی کی انتظامیہ کے عہدیداروں نے لوگوں کو ماسک نہ پہننے پر جرمانہ عائد کرنے کا کہا تو ان کے درمیان جھگڑا ہوگیا تھا اور تقریبا ایسی ہی صورتحال تمام اضلاع سے سامنے آئی ہے’۔انہوں نے کہا کہ صوبے میں صحتیابی کی شرح حوصلہ افزا ہے تاہم کیسز میں یہ نیا اضافہ تشویشناک ہے اور اس وائرس پر قابو پانے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ کمشنر نے پہلے ہی ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت جاری کی تھیں کہ وہ ایس او پیز پر مناسب اور سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنائے جیسے ماسک پہننا، سماجی دوری اختیار کرنا، مصافحہ اور ہجوم سے گریز کرنا۔