کورونا کی دوسری لہر میں دسمبر کے آخر میں شدت آسکتی ہے ، ماہرین نے خبردار کردیا

لاہور : پنجاب کے اسپتالوں میں رواں ماہ 6 گنا سنجیدہ مریضوں میں اور اموات میں 3 گنا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ، چیئرمین کورونا ایڈوائرزی نے خبردار کیاہے کہ دوسری لہر میں دسمبر کے آخر میں شدت آسکتی ہے۔ پنجاب کے اسپتالوں میں رواں ماہ میں گزشتہ ماہ کی نسبت 6 گنا سنجیدہ مریضوں میں اضافہ ہوا جبکہ سنجیدہ کیسز آنے پر اموات میں بھی 3 گنا اضافہ دیکھنے میں آیا۔

کیسز بڑھنے سے اسپتالوں میں سہولتیں ناپید ہونے کا خدشہ ہے، پنجاب میں 1280وینٹی لیٹرز،5 ہزار سے زائد آکسیجن بیڈز موجود ہیں ، میو اسپتال میں سب سے زیادہ 75 وینٹی لیٹرز کرونا کیلئے مختص ہیں ، میو اسپتال میں تاحال 30 مریض انتہائی نگہداشت پر ہیں۔ شہر کے 12 سرکاری اسپتالوں کو کرونا فوکل اسپتال بنایاگیاہے ، 12سرکاری اسپتالوں میں161کوروناکےتشویشناک مریض زیرعلاج ہیں ، سب سے زیادہ 89 مریض میو اسپتال میں زیرعلاج جبکہ شہر کے 19 نجی ہسپتالوں میں 130 مریض زیرعلاج ہیں۔

فیلڈ اسپتال ایکسپو میں 280آکسیجن بیڈز موجود ہے، جہاں 40 آکسیجن بیڈز کو مکمل تیار کر لیا گیا ہے تاہم ایکسپو سینٹر میں تاحال مریضوں کو داخل نہیں کیا جا رہا۔چیئرمین کورونا ایڈوائرزی پروفیسر محمود شوکت نے خبردار کیا کہ دوسری لہر میں دسمبر کے آخر میں شدت آسکتی ہے، بچوں،ضعیف افراد میں نمونیا سےاموات بڑھ سکتی ہیں اور کیسز بڑھنے سے اسپتالوں میں سہولتیں کم پڑسکتی ہیں۔ پروفیسر اسد اسلم کا کہنا تھا کہ ویکسین کے تاحال آثار نہیں، احتیاطی تدابیرہی ویکسین ہے، کوروناکی مقامی منتقلی روکنے کیلئےضروری خودکومحدود رکھا جائے۔