ٹوائلٹ کا عالمی دن: پاکستان کی 10 فیصد آبادی کھلے میں رفع حاجت کرنے پر مجبور

دنیا بھر میں آج بیت الخلا کا عالمی دن یعنی ورلڈ ٹوائلٹ ڈے منایا جا رہا ہے، پاکستان کی 10 فیصد آبادی بیت الخلا کی سہولت سے محروم اور کھلے میں رفع حاجت کرنے پر مجبور ہے۔ اس دن کو منانے کا آغاز سنہ 2013 میں کیا گیا جس کا مقصد اس بات کو باور کروانا ہے کہ صحت و صفائی کو برقرار رکھنے کے لیے ایک محفوظ اور باقاعدہ بیت الخلا اہم ضرورت ہے۔ اس کی عدم دستیابی یا غیر محفوظ موجودگی بچوں اور بڑوں میں مختلف بیماریوں کا سبب بنتی ہے۔

سنہ 2015 میں اقوام متحدہ نے ہر شخص کے لیے ٹوائلٹ کی فراہمی کو عالمگیر انسانی حقوق میں سے ایک قرار دیا تاہم اکیسویں صدی میں بھی دنیا بھر میں 2 ارب سے زائد افراد بنیادی بیت الخلا کی سہولت سے محروم ہیں
دنیا بھر میں 60 کروڑ سے زائد افراد کھلے میں رفع حاجت کرنے پر مجبور ہیں اور دنیا کی صرف 45 فیصد آبادی کو صاف ستھرے اور محفوظ ٹوائلٹ میسر ہیں۔ علاوہ ازیں دنیا بھر میں 3 ارب افراد کو ہاتھ دھونے کی بنیادی سہولت بھی میسر نہیں۔

صحت و صفائی کے اس ناقص نظام کی وجہ سے دنیا بھر میں 5 سال کی عمر سے کم روزانہ 800 بچے، اسہال، دست اور ٹائیفائڈ کا شکار ہو کر موت کے گھاٹ اتر جاتے ہیں۔ اسی طرح گندے پانی سے ہونے والی بیماریاں ہر سال دنیا بھر میں 8 لاکھ 29 ہزار افراد کی جان لے لیتی ہیں. پاکستان میں بیت الخلا کا استعمال

ورلڈ بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کی 10 فیصد آبادی کھلے میں رفع حاجت کرنے پر مجبور ہے، یہ تعداد 2 کروڑ سے زائد ہے اور زیادہ تر دیہات یا شہروں کی کچی آبادیوں میں رہائش پذیر ہے۔ یونیسف کا کہنا ہے کہ پاکستان میں صفائی کی ناقص صورتحال اور گندے پانی کی وجہ سے روزانہ 5 سال کی عمر کے 110 بچے اسہال، دست، ٹائیفائڈ اور اس جیسی دیگر بیماریوں کے باعث ہلاک ہو جاتے ہیں۔ یونیسف کا کہنا ہے کہ سنہ 1990 تک صرف 24 فیصد پاکستانیوں کو مناسب اور صاف ستھرے بیت الخلا کی سہولت میسر تھی اور 2015 تک یہ شرح بڑھ کر 64 فیصد ہوگئی۔

دوسری جانب سنہ 2016 سے آغاز کیے جانے والے اقوام متحدہ کے پائیدار ترقیاتی اہداف میں طے کیا گیا ہے کہ سنہ 2030 تک دنیا کے ہر شخص کو صاف ستھرے بیت الخلا کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔ وزیر اعظم عمران خان نے بھی سنہ 2023 تک ملک کی تمام آبادی کے لیے ٹوائلٹس تعمیر کرنے کا اعلان کیا ہے، وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ سیاحت میں کمی کی وجہ پبلک ٹوائلٹس کی عدم فراہمی بھی ہے۔ کچھ عرصہ قبل اپنے ایک خطاب میں انہوں نے کہا تھا کہ ملک کے تمام پیٹرول پمپس اور سی این جی اسٹیشنز کو اپنے واش رومز صاف رکھنے کا آرڈر چلا گیا ہے، ہر ٹوائلٹ کے باہر ایک واٹس ایپ نمبر دیا جائے گا جس پر گندے ٹوائلٹس کی تصاویر بھیجی جاسکیں گی، اس کے بعد مذکورہ پمپس اور اسٹیشن مالکان کو جرمانہ کیا جائے گا۔۔