ملازم سے ناجائز تعلقات رکھنے والی خاتون نے اپنے وفادار شوہر کو مروادیا

لاہور: ملازم کے ساتھ ناجائز تعلقات رکھنے والی بیوی نے اپنے وفادار شوہر کو مروا دیا۔ حسین کی اہلیہ کا کہنا ہے کہ مجھے اپنے مقتول شوہر کے لیے انصاف چاہئیے۔ روبی بی بی نے کہا کہ میں صرف ملازم سے فون پر بات کرتی تھی، اس سے زیادہ میرا اس سے کوئی رشتہ نہیں تھا، مجھے نہیں معلوم تھا کہ وہ یہ سب کر گزرے گا۔

مجھے میرے بچوں کے لیے انصاف چاہئیے۔ روبی بی بی نے بتایا کہ میرا بابر سے گذشتہ 8 ، 9 ماہ سے صرف فون پر رابطہ تھا۔ اُس نے کبھی مجھے بچے یا شوہر چھوڑنے کا نہیں کہا ، نہ ہی میں نے کبھی اُس سے ایسا کوئی مطالبہ کیا کیونکہ وہ خود بھی شادی شدہ ہے۔ لیکن اکثر مجھے یہ ضرور کہتا تھا کہ جب میں تمہارے ساتھ کسی کو دیکھتا ہوں تو مجھے غصہ آتا ہے۔میرے سے برداشت نہیں ہوتا ، پتہ میں تمہارے شوہر کو کس طرح تمہارے ساتھ برداشت کرتا ہوں۔

روبی بی بی نے اپنے شوہر سے متعلق بتایا کہ میرے شوہر کا نام انتظار حسین تھا لیکن انہیں زیادہ تر عمران کہہ کر پُکارتے تھے۔ میری شادی کو چودھواں سال شروع ہو چکا ہے اور میرے تین بچے ہیں۔ روبی بی بی نے بتایا کہ فیملی کی طرح ہمارا بابر کے گھر آنا جانا تھا لیکن دو ملاقاتیں ایسی ہوئیں کہ میں بابر کے گھر رات رُک گئی۔ روبی بی بی نے قتل کے الزام پر کہا کہ یہ جھوٹا الزام ہے ، میں نے اپنے شوہر کو قتل کرنے کی کوئی منصوبہ بندی نہیں کی۔
اتوار کے دن میں اور میرے شوہر باہر سے آئے تو بابر نے انہیں فون کر کے بُلایا ، وہ مجھے بتا کر گئے کہ میں بابر کے ساتھ باہر جا رہا ہوں تھوڑی دیر تک آتا ہوں، اُن کے جانے کے بعد میں سو گئی ۔ میری آنکھ بابر کے فون سے کُھلی ، اُس نے فون پر مجھ سے کہا کہ اب مجھ سے اس نمبر پر رابطہ نہ کرنا میں نے عمران کو سائیڈ پر لگا دیا ہے۔ اگر تم نے منہ کھولا تو میں تمہیں بھی مار دوں گا اور خود کو بھی مار دوں گا۔

روبی بی بی نے اپیل کی کہ مجھے میرے بچوں کی خاطر معاف کر دیا جائے ، میں نے اپنے شوہر کو نہیں مروایا۔ میرا خدا جانتا ہے کہ مجھے اس بات کا علم نہیں ہے۔ مقتول انتظار حسین کے بھائی نے بتایا کہ میرے بھانجے نے مجھے فون کر کے میرے بھائی کی گمشدگی سے آگاہ کیا۔ مقتول کے بھائیوں کا کہنا ہے کہ بابر نے ہمارے بھائی کو قتل کیا، ہماری بھابھی کا بابر سے باجائز تعلق تھا، اسی لیے میرے بھائی کو مارا گیا۔ دس دن تک میرے بھائی کی لاش اسپتال میں بے یار و مددگار پڑی رہی۔ انچارج انوسٹی گیشن محمد مقصود کا کہنا ہے کہ ملزم نے انتظار حسین کو ایک قبرستان میں لے جا کر فائرنگ کی اور موت کے گھاٹ اُتارا۔ ملزم کے بھائیوں نے مزید کیا کہا آپ بھی ملاحظہ کیجئیے: