دھرنا ختم کرنےکیلئے حکومت اور تحریک لبیک کے درمیان کیا معاہدہ ہوا؟

حکومت اور تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کی قیادت کے درمیان معاہدہ طے پانے کے بعد اسلام آباد میں دھرنا ختم ہونے کے بعد انتظامیہ کی جانب سے صفائی کروا لی گئی ہے اور تمام راستے بھی کھول دیے گئے ہیں۔

حکومت سے مذاکرات میں معاہدہ طے پانے کے بعد اسلام آباد میں 15 نومبر سے جاری دھرنا پیر کی شب ختم ہوگیا جس کے بعد موبائل سروس بھی بحال کر دی گئی ہے اور فیض آباد آنے جانے والی ٹریفک روا ں دواں ہے۔ اسلام آباد اور راولپنڈی کے داخلی اور خارجی راستےکھول دیےگئے ہیں جب کہ میٹرو بس سروس بھی بحال کر دی گئی ہے۔

حکومت اور تحریک لبیک پاکستان کی قیادت کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے مطابق حکومت پارلیمنٹ سے فیصلہ سازی کے ذریعے فرانس کے سفیر کو 2 سے 3 ماہ میں ملک بدرکرے گی اور فرانس کی مصنوعات کا سرکاری سطح پر مکمل بائیکاٹ کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ تحریک لبیک پاکستان کےگرفتار شدہ کارکنوں کو فوری رہاکیا جائےگا اوربعد از مارچ مقدمہ درج نہیں کیا جائےگا۔

خیال رہےکہ فرانس میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کے خلاف 15نومبرکو فیض آباد پر تحریک لبیک پاکستان کے مارچ کو روک دیاگیا تھا جس پر ٹی ایل پی کے کارکنوں نے وہیں دھرنا دے دیا تھا جس کی وجہ سے جڑواں شہروں میں موبائل فون سروس بند کردی گئی تھی اور سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی ہونے سے بھی شہریوں کو مشکلات کا سامناکرنا پڑا، سرکاری و نجی ملازمین اور خواتین کو دفاتر پہنچنے کےلیےکئی کئی کلومیٹر پیدل چلنا پڑا۔

اس دوران تحریک لبیک کے کارکنوں نے فیض آباد کے قریبی ہوٹلوں اور فیض آباد پل کے نیچے رات گزاری اور رات بھر پولیس اور مظاہرین کے درمیان آنکھ مچولی کا سلسلہ جاری رہا، مشتعل مظاہرین اسلام آباد میں داخل ہونے کی کوشش کرتے رہے جب کہ پولیس کی جانب سے تحریک لبیک کے کارکنوں کو روکنے کے لیے شیلنگ کی گئی