سابق ن لیگی ایم پی اے چوہدری سرفراز افضل کرپشن کیس میں گرفتار

راولپنڈی: اینٹی کرپشن راولپنڈی نے مسلم لیگ ن کے سابق ایم پی اے چوہدری سرفراز افضل کو گرفتار کرلیا۔

سرفراز افضل سمیت انکے والد چچا سمیت سابق ڈی ایس پی پر منظوری کے بغیر ہاؤسنگ اتھارٹی کے پلاٹوں کی خرید فروخت کر کے عوام اور سرکاری خزانے کو بھاری نقصان پہنچانے کے جرم میں مقدمہ درج کیا گیا جس میں راولپنڈی ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے ڈیپٹی ڈائریکڑ پلاننگ اورتین افسران مجموعی طور پر بارہ افراد نامزد ہیں۔

گرفتاری کے بعد اینٹی کرپشن راولپنڈی کی حراست میں چوہدری سرفراز کو دل کی تکلیف کی شکایت ہوئی جس پر اینٹی کرپشن نے راولپنڈی انسٹیوٹ آف کارڈیالوجی منتقل کردیا جنہیں ابتدائی چیک کے بعد مذید نہگداشت کے ہسپتال میں داخل کرلیاگیا. ایف ائی آر کے مطابق سرفراز افضل کو آر ڈی اے کے متعقلہ افسران و عملے کی مبینہ ملی بھگت سے بغیر منظوری موضع کوٹ جبی میں پام سٹی ہاوسنگ سوسائٹی کے پلاٹ فروخت کر کے سادہ لوح عوام سے بھاری رقوم ہتھیانے اور مجاز اتھارٹی سے اجازت بغیر ہاوسنگ سوسائٹی کے پلا ٹوں کی خرید فروخت کر کے سرکاری خزانے کو بھاری نقصان پہنچانے کے الزامات کے تحت ملزم نامزد کر کے گرفتار کیا گیا

ایف آئی آر میں سرفراز افضل کے والد چوہدری افضل خان،چچا ملک غلام رضا،ڈپٹی ڈائریکٹر پلاننگ آر ڈی اے طاہراسسٹنٹ ڈائریکٹر پلاننگ سمیع اللہ نیازی،ڈپٹی ڈائریکٹر محمد اعجاز،بلڈنگ انسپکٹر مقصود الحسن ، غلام محبوب، عطا الرحمان قریشی ، ڈویلپر راجہ ظہیر، مالکان میسرز سم پاک، اور سابق ڈی ایس پی پولیس محمد افتخار کو بھی نامزد کیاگیا ہے.اینٹی کرپشن حکا م کا کہنا ہے کہ دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے بھی چھاپے مارے جارھے ہیں سرفراز افضل مسلم لیگ ن کے سینیٹر چوہدری تنویر کے بھتیجے، دانیال چوہدری کے تایا زاد بھائی ہیں۔