پی ڈی ایم نے کورونا وبا کے دوران جلسے منسوخ کرنے کی حکومتی ’تاکید‘ مسترد کردی

حکومت مخالف اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے صدر اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے حکومت کی تجویز کو مسترد کردیا ہے جس میں کورونا وائرس سے بڑھتے ہوئے کیسز کے پیش نظر جلسے جلوس منسوخ کرنے پر زور دیا گیا تھا۔پی ڈی ایم کے اجلاس کے بعد مولانا فضل الرحمٰن نے میڈیا کو بریفنگ کے دوران کہا کہ پی ڈی ایم نے گلگت بلتستان میں ہونے والے نتائج کو بھی مسترد کردیا۔انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم کے سربراہی اجلاس نے غیرملکی فنڈنگ کیس میں تاخیر کا نوٹس لیا ہے۔مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ’آخر کیوں اور کس وجہ سے تاخیری حربے استعمال کیے جارہے ہیں‘۔

ان کا کہنا تھا کہ شوگر مافیا کو 400 ارب روپے کی سہولت دی گئی اور جس افسر نے چور پکڑا تو اس کو نوکری سے نکال دیا گیا۔مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ایف بی آر کے مستعفیٰ ہونے والے چیئرمین اعترافات کیے دراصل وہ وزیر اعظم عمران خان کے خلاف ایف آئی آر ہے۔جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ نے شبر زیدی کا حوالہ دے کر کہا کہ جب انہوں نے کرپشن کرنے والے افراد کی فہرست پیش کی تو عمران خان نے کہا کہ انہیں چھوڑ دو کیونکہ فہرست میں شامل افراد ہمیں فنڈز کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم کا مرکزی ڈھانچہ مکمل کرلیا گیا ہے۔مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ قانون کی بالادستی تمام اسلامی شقوں کے تحفظ پر تمام جماعتوں نے اتفاق کیا ہے۔

علاوہ ازیں ان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ کی خود مختاری، آزاد عدلیہ کے قیام پر تمام اپوزیشن جماعتوں نے اتفاق رائے کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم کے تمام جماعتوں نے عوام کے بنیادی اور سیاسی حقوق کے تحفظ پر زور دیا ہے۔مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ صوبوں کے حقوق اور 18 ویں ترمیم کا تحفظ بھی پی ڈی ایم کے بنیادی نکات میں شامل ہے۔پی ڈی ایم کے صدر نے کہا کہ حکومت دو سال کی کارکردگی پر نااہل اور نالائق ثابت ہوئی ہے۔