اگر 5 ہزار ارب روپے قرض ادا نہ کرتے تو عوام کو بہت کچھ دے سکتے تھے، حفیظ شیخ

اسلام آباد: میں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز کے ہمراہ میڈیا بریفنگ کے دوران انہوں نے کہا کہ کرنٹ اکاؤنٹ 792 ارب ڈالر سرپلس ہوچکا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے اخراجات آمدنی سے زیادہ تھے جس کی وجہ سے تاریخ سطح پر مقروض ہوچکے تھے اور اس وجہ سے وزیراعظم عمران خان کی حکومت کو 5 ہزار ارب روپے قرض کی مد میں ادا کرنے پڑے۔ڈاکٹر حفیظ شیخ نے کہا کہ اگر 5 ہزار ارب روپے قرض کی مد میں ادا نہ کرنے پڑتے تو عوام کو بہت کچھ دے سکتے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ بڑی کمپنیوں کی گروتھ میں 5 فیصد ہوا ہے جبکہ 16 ملین سے 20 ملین ٹن سمنٹ تیارکی جارہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آٹو موبائل سمیت دیگر شعبہ جات کی گروتھ میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔ڈاکٹر حفیظ شیخ نے کہا کہ ہم بجٹ کے علاوہ کوئی سپلمنٹری گرانٹ نہیں دے رہے۔انہوں نے کہا کہ بیرون ملک سے پاکستان میں جولائی سے اکتوبر کے درمیان سرمایہ کاری کی مد میں 735 ملین ڈالر میں آئے۔مشیر خزانہ نے بتایا کہ پوری دنیا نے تسلیم کیا کہ پاکستان نے 250 ارب روپے کے ٹیکس ریفنڈ کیے جبکہ ماضی میں اس کی مثال نہیں ملتی۔

ان کا کہنا تھا یہ سب جانتے ہیں جب حکومت آئی تب بحرانی کیفیت تھی جس کا جواز یہ ہے کہ ہمیں عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے پاس جانا پڑا۔انہوں نے کہا کہ شروع ہی سے کوشش رہی کہ بحرانی کیفیت سے نکلیں اور کورونا وائرس سے پہلے استحکام کی جانب پہنچ گئے تھے۔ڈاکٹر حفیظ شیخ نے کہا کہ ٹیکسز میں 17 فیصد اضافہ ہوا، اخراجات کو کم کیا اور پرائمری بیلس سرپلس کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ ایکسپورٹ بڑھائی گئیں اور کاروباری افراد کو مراعات دی گئی تاکہ روزگار کے مواقع پیدا ہوں۔

ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر حفیظ شیخ نے کہا کہ گزشتہ 8 سے 10 میں انکم ٹیکس ریفنڈ نہیں دیے گئے اور ہم نے فیصلہ کیا کہ ریفنڈ کو بجٹ سے ادا کیے جائیں تاکہ کوئی عذر برقرار نہ رہے۔انہوں نے کہا کہ ہماری پالیسی ہے کہ 5 کروڑ روپے تک جس کے بھی ریفنڈ ہیں انہیں ادائیگی کی گئی اور اگر کوئی اس ضمن میں کسی کوئی شکایت کرے تو بتائیں۔علاوہ ازیں وفاق وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے اجناس کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور بحران سے متعلق کہا کہ کہا کہ ملک میں اشیائے خور و نوش کی مقدار وافر ہے اور اس ضمن میں منطقی فیصلے کیے جارہے ہیں۔مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کے ہمراہ میڈیا بریفنگ کے دوران انہوں نے کہا کہ پنجاب میں برآمد کی گئی چینی مارکیٹ میں 83 روپے کلو فروخت ہورہی ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت اشیائے خورونوش کی قیمتوں کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے کوشاں ہیں اور اسٹاک وافر مقدار میں موجود ہے جبکہ قیمتوں میں مزید تنزلی کا امکان ہے۔