اگر ایس او پیز پر عملدرآمد نہ کیا گیا تو صورتحال انتہائی تشویشناک ہو سکتی ہے: وزیراعظم عمران خان

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ قوم نے اگر پہلے کی طرح کورونا سے بچائوکے ضابطہ کار پر عمل کیا تو لوگوں کے ساتھ ساتھ اپنے کاروبار اور معیشت کو بچانے میں کامیاب رہیں گے، اگر ایس او پیز پر عملدرآمد نہ کیا گیا تو صورتحال انتہائی تشویشناک ہو سکتی ہے، گلگت بلتستان میں انتخابات کے بعد کورونا تیزی سے پھیلا ہے، کورونا وبا کے تناظر میں ہم اپنا جلسہ منسوخ کر رہے ہیں اور ملک بھر میں جلسے، جلوس پر پابندی ہو گی، فیکٹریوں، دکانوں اور کاروباری مراکز میں کورونا سے بچائوکے ایس او پیز پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے، سکولوں میں کورونا کی صورتحال کا مزید جائزہ لے کر آئندہ ہفتے فیصلہ کیا جائے گا۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو کورونا سے متعلق رابطہ کمیٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ کے دوران کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ اجلاس میں بڑھتے ہوئے کورونا کیسز کا جائزہ لیا گیا، پوری دنیا میں کورونا کی دوسری لہر جاری ہے، کورونا کی دوسری لہر دنیا بھر بشمول امریکہ، انگلینڈ اور دوسرے ملکوں میں کیسز میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کورونا کے دوران پاکستان پر اﷲ کا خاص کرم رہا، پاکستان کی نسبت بھارت اور ایران میں حالات زیادہ خراب ہیں، بھارت میں لاک ڈائون کے باعث معاشی صورتحال انتہائی خراب ہو گئی۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ 10 دن کے دوران پاکستان میں کورونا کیسز چار گنا بڑھ گئے ہیں، پاکستان میں کورونا سے اموات کی تعداد بھی تیزی سے بڑھ رہی ہے، اموات کی شرح ایک دن میں چار، پانچ سے بڑھ کر 25ہو گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے احتیاط نہ کی تو ہسپتالوں پر دوبارہ دبائو بڑھے گا، اگر مریضوں کی یہی تعداد برقرار رہی تو ملک میں پھر جون جیسی صورتحال پیدا ہو گی، جب ہسپتالوں اور ڈاکٹروں پر شدید دبائوتھا، ہسپتال مریضوں سے بھر گئے تھے، موجودہ تناظر میں یہ صورتحال مزید بھی بگڑ سکتی ہے کیونکہ کورونا اب زیادہ شدت اور تیزی سے پھیل رہا ہے، یہ احتیاط کرنے کا وقت ہے، ایس او پیز پر عمل کیا تو دوسری لہر کا مقابلہ کر سکتے ہیں، کورونا سے بچنے کا آسان طریقہ صرف ماسک کا استعمال ہے، سماجی فاصلوں پر عمل کریں اور ہر صورت ماسک پہنیں۔ انہوں نے کہا کہ کورونا کی پہلی لہر کے دوران عوام نے ایس او پیز پر عمل اور احتیاط برتی، مساجد میں رمضان المبارک کے دوران ایس او پیز پر عملدرآمد کیا گیا جس کے باعث ہماری مساجد کھلی رہیں۔

انہوں نے کہا کہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ملک بھر میں جلسے جلوس پر پابندی ہو گی، ہم اپنا جلسہ بھی منسوخ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شادی ہالز کی بجائے کھلی جگہ پر تقریبات منعقد ہوں گی، کسی بھی قسم کی تقریب میں 300 سے زائد لوگ شامل نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ فیکٹریاں، دکانیں اور کاروبار بند نہیں کریں گے، فیکٹریوں، مساجد اور عوامی مقامات پر ماسک پہنا جائے اور دیگر ایس او پیز پر عمل کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ گلگت بلتستان نے بتایا کہ وہاں پر انتخابات کے بعد کورونا کے پھیلائومیں تیزی آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حالات دیکھ کر ایک ہفتے بعد سکولوں سے متعلق فیصلہ کریں گے، سکولوں میں سردیوں کی چھٹیاں زیادہ اور گرمیوں کی چھٹیاں کم بھی کی جا سکتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ٹائیگر فورس موبائل فون کے ذریعے ایس او پیز کی خلاف ورزی کی نشاندہی سمیت ایس او پیز پر عملدرآمد یقینی بنانے میں تعاون کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ قوم نے مل کر ایس او پیز پر عملدرآمد یقینی بنایا ہے، کورونا کے پہلے مرحلہ میں بھی ہم نے مل کر کوششوں کے ذریعے کورونا کے خلاف کامیابی حاصل کی تھی اور اگر اب بھی ہم نے ایس او پیز پر عمل کیا تو لوگوں کے ساتھ ساتھ اپنے کاروبار اور معیشت کو بھی بچا لیں گے۔