ٹی ایل پی کا احتجاج جاری، جڑواں شہروں میں سیکیورٹی اہلکاروں کی بھاری نفری تعینات

اسلام آباد انتظامیہ نے فرانس میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کے خلاف تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر فیض آباد میں پولیس، رینجرز اور فرنٹیئر کور کے 3 ہزار 113 سیکیورٹی اہلکاروں کو تعینات کردیا۔

گزشتہ روز راولپنڈی میں منعقدہ احتجاجی ریلی میں 5 ہزار افراد نے شرکت کی تھی، ریلی آج بھی جاری رہی اور ریلی کے شرکا نے روڈ بلاک کردیا جس کے باعث لوگوں کو دارالحکومت میں داخل ہونے میں دشواری کا سامنا رہا۔15 نومبر کو اسلام آباد کے سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (آپریشنز) کے دفتر سے جاری نوٹی فکیشن میں پرتشدد واقعات کے پیش نظر دارالحکومت میں سیکیورٹی کے تفصیلی انتظامات کا تذکرہ کیا گیا۔نوٹی فیکیشن میں کہا گیا کہ ‘توقع کی جارہی ہے کہ ریلی میں شامل شرکا پرتشدد واقعات کے مرتکب ہوسکتے ہیں اور وہ ضلعی انتظامیہ سے کیے گئے وعدے توڑ کر فرانسیسی سفارت خانے کی طرف بڑھ سکتے ہیں’۔
اسلام آباد کی انتظامیہ کے سینئر افسران نے گزشتہ روز احتجاجی ریلی کے لیے حفاظتی انتظامات طلب کرنے کے بعد ٹی ایل پی رہنماؤں سے رابطہ کیا تھا۔
مظاہرین حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ فرانس سے پاکستان کے سفیر کو واپس بلائے اور اسلام آباد میں تعینات فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کرے۔ذرائع نے بتایا کہ افسران نے ٹی ایل پی کے رہنماؤں اور ریلی کے منتظمین کو کورونا وائرس کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر قائل کرنے کی کوشش کی تھی کہ اسلام آباد سمیت پورے ملک میں کووڈ 19 پھیل رہا ہے’۔
ایس ایس پی آپریشنز کے جاری کردہ نوٹی فکیشن میں سیکیورٹی عہدیداروں کو شہریوں کی حفاظت، اہم سرکاری تنصیبات، عوامی نظم و ضبط کی بحالی اور مبینہ طور پر دہشت گردی کے حملوں کے سدباب کی ہدایت کی گئی۔تیسرے دن بھی اسلام آباد اور راولپنڈی میں موبائل سگنلز معطل رہے اور فیض آباد انٹر چینج جانے والی سڑکوں کے ساتھ اسلام آباد کے انٹری پوائنٹس کو کنٹینرز رکھ کر بلاک کردیا گیا۔

نمائندہ ڈان نے بتایا کہ جڑواں شہروں میں امن و امان کی صورتحال قابو میں ہے اور کچھ علاقوں میں موبائل سگنلز بحال ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔اتوار کے دن صورتحال بالکل مختلف تھی جب لیاقت باغ میدان جنگ کا منظر پیش کر رہا تھا اور پورے دن پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوتی رہیں۔ جھڑپوں کے دوران وارث خان پولیس اسٹیشن کے ایس ایچ او عبدالعزیز سمیت پولیس کے درجنوں اہلکار اور ٹی ایل پی کے متعدد کارکن زخمی ہوئے جنہیں ہسپتالوں میں منتقل کردیا گیا۔
شہر کے 24 داخلی راستوں کو کنٹینر لگا کر سیل کیا گیا تھا جن میں سوان برج، کچری چوک، ماریئر چوک، لیاقت باغ، شمس آباد، رحمٰن آباد، ڈبل روڈ، اڈیالہ روڈ، چور چوک اور آئی جے شامل ہیں۔

اسلام آباد جانے والے مرکزی روڈ کو بھی بلاک کردیا گیا تھا۔دوسری جانب وزارت داخلہ کی جانب سے جاری گائیڈ لائنز میں راولپنڈی اور اسلام آباد انتظامیہ کو ٹی ایل پی سے مذاکرات کی ناکامی پر مکمل آپریشن کا اختیار دے دیا گیا ہے۔گائیڈ لائنز کے مطابق احتجاجی شرکا کو اسلام آباد میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے۔وزیراعظم عمران خان نے بھی فیصلے کی توثیق کر دی۔علاوہ ازیں جڑواں شہروں میں میٹرو بس سروس بند کردی گئی ہے۔لاہور سے آنے والی ٹریفک کو ٹی کراس روات سے راولپنڈی کی جانب موڑا جا رہا ہے جبکہ پشاور سے آنے والی ٹریفک کو 26 نمبر چورنگی سے موٹروے کی جانب موڑا جائے گا۔