تعلیمی ادارے 20 نومبر سے 31 جنوری تک بند رکھنے کی تجویز پیش

اسلام آباد : وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کی زیر صدارت بین الصوبائی وزرائے تعلیم کانفرنس ہوئی جس میں تمام صوبائی وزرا نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اجلاس میں تعلیمی اداروں کو بند کرنے اور موسم سرما کی تعطیلات کے حوالے سے بات چیت کی گئی۔ تفصیلات کے مطابق اجلاس میں کہا گیا کہ تعلیمی اداروں میں کورونا کیسز خطرناک حد تک بڑھ گئے ہیں۔

وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا کہ بچوں اور اساتذہ کی جان زیادہ عزیز ہے۔ بچوں اور اُساتذہ کی حفاظت ہماری اولین ترجیح ہے۔ اجلاس میں تعلیمی اداروں میں 20 نومبر سے 31 جنوری تک موسم سرما کی تعطیلات دینے کی تجویز پیش کی گئی ۔ تعلیمی اداروں میں موسم سرما کی تعطیلات کے معاملے پر کچھ شرکا نے حمایت کی اور کچھ نے مخالفت کردی۔
اجلاس میں کہا گیا کہ تعلیمی ادارے بند کرنے کی بجائے اسمارٹ لاک ڈاؤن پر غور کیا جانا چاہئیے۔

اجلاس میں تعلیمی سال یکم اگست سے شروع کرنے کا معاملہ بھی زیر غور آیا۔ ذرائع کے مطابق اجلاس کے شرکا کی جانب سے یونیورسٹیز اور کالجز بند نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق بین الصوبائی وزرائے تعلیم کا اجلاس آئندہ ہفتے دوبارہ ہو گا جس میں صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا۔ دوسری جانب آج شام این سی سی کا اجلاس ہو گا جس کی صدارت وزیراعظم عمران خان خود کریں گے۔

اجلاس میں صحت کے وزیر اور چیف سیکرٹریز بھی شریک ہوں گے۔ تعلیمی اداروں میں موسم سرما کی تعطیلات سے متعلق حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔ یاد رہے کہ ملک بھر میں کورونا وائرس کی دوسری لہر شدت اختیار کر گئی ہے۔ گذشتہ روز سابق معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کورونا پھیلاؤ روکنے کے لیے تعلیمی اداروں میں قبل ازقت موسم سرما کی تعطیلات کو لازمی قرار دیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ہم یہ نہیں کہتے کہ سکولوں کو غیرمعینہ مدت کیلئے بند کردیا جائے صرف این سی اوسی کی سفارشات پر عمل کیا جائے اور موسم سرماکی چھٹیاں قبل ازوقت دے کر ان میں تھوڑا اضافہ کردیا جائے۔ خیال رہے کہ قبل ازیں وزیر تعلیم پنجاب مراد راس نے موسم سرما کی چھٹیوں کی مخالفت کی تھی اور کہا تھا کہ پنجاب میں اسکولز بند کرنے کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں ہوا ۔

میری سمجھ کے مطابق موسم سرما کی چھٹیاں نہیں ہونی چاہئیں۔ جبکہ دوسری جانب صدر آل پاکستان صدرآل پاکستان پرائیویٹ اسکولز فیڈریشن کاشف مرزا نے واضح بیان جاری کر چکے ہیں کہ اسکولز دوبارہ بند نہیں ہوں گے، جبکہ اسکولز بند کرنے سے متعلق حکومتی تجویز بھی مسترد کی تھی اور کہا تھا کہ وقت کی قلت کی وجہ سےموسم سرماکی تعطیلات نہیں ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی سال اپریل کے بجائے اگست تک کرنے کی تجویز بھی مسترد کرتے ہیں۔
صرف اسکولز میں ایس او پیز پر عمل کیا جا رہا ہے۔ کورونا میں پہلے ہی کروڑوں طلبا کی تعلیم کا ناقابل تلافی نقصان ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم آن لائن ایجوکیشن سے مطمئن نہیں ہیں۔ آن لائن ایجوکیشن میں طلبا اساتذہ پر توجہ نہیں دیتے۔ تاہم تعلیمی اداروں میں موسم سرما کی تعطیلات کے حوالے سے حتمی فیصلہ آج شام وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت ہونے والے قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں کیا جائے گا۔