عوام کا شدید دباؤ

بہت کم پاکستانیوں کو معلوم ہے کہ پاکستان کے پہلے فوجی ڈکٹیٹر جنرل ایوب خان صرف ایک دن کیلئے ملک کے وزیراعظم بھی بنے تھے۔

معروف محقق اور دانشور ڈاکٹر صفدر محمود نے اپنی نئی کتاب ’’سچ تو یہ ہے!‘‘ میں لکھا ہے کہ ایک دفعہ واشنگٹن میں امریکی حکومت کی پرانی دستاویزات میں کچھ واقعات پڑھ کر وہ دنگ رہ گئے۔ لکھتے ہیں کہ خواجہ ناظم الدین کی وزارتِ عظمیٰ کے دوران پاکستان میں گندم کی قلت پیدا ہو گئی۔ اِس قلت کو دور کرنے کیلئے امریکہ سے گندم امپورٹ کی گئی اور گندم کی ہنگامی بنیادوں پر تقسیم کیلئے فوج کی مدد لی گئی۔ حیرت کا مقام یہ تھا کہ ایک اجلاس میں فوج کے سربراہ جنرل ایوب خان نے وزیر تجارت کو خوب جھاڑا جن کے ذمہ گندم کی امپورٹ تھی۔ سابق وزیراعظم چودھری محمد علی نے ایک انٹرویو میں ڈاکٹر صفدر محمود کو بتایا کہ جب 1954میں گورنر جنرل غلام محمد نے دستور ساز اسمبلی ڈسمس کی تو محمد علی بوگرہ کو فوجی گاڑی میں گورنر جنرل ہاؤس لایا گیا اور گورنر جنرل نے اصرار کیا کہ بوگرہ صاحب بطور وزیراعظم کام کرتے رہیں۔ بوگرہ انکار کر رہے تھے، اِس دوران چودھری محمد علی کسی کام سے اٹھ کر دوسرے کمرے میں گئے تو اُنہوں نے دیکھا کہ پردے کے پیچھے جنرل ایوب خان رائفل سمیت موجود تھے۔ اگلے دن بوگرہ نے نئے وزیراعظم کے طور پر حلف اٹھایا تو فوج کے سربراہ جنرل ایوب خان اُن کی کابینہ میں وزیر دفاع کے طور پر موجود تھے۔ پاکستان میں امریکی سفارتخانہ اپنی رپورٹوں میں بہت پہلے سے یہ دعوے کر رہا تھا کہ ایوب خان پاکستان کا مردِ آہن ہے۔

اُسی زمانے میں سردار عبدالرب نشتر نے اپنی سوانح عمری ’’میری کہانی میری زبانی‘‘ میں لکھا کہ جنرل ایوب خان اپنی نجی محفلوں میں حکومت اور سیاست دانوں پر بہت تنقید کرتا ہے اور اُنہیں نااہل قرار دیتا ہے، لگتا ہے وہ اقتدار پر قبضہ کرنا چاہتا ہے، اگر اُس نے اقتدار پر قبضہ کر لیا تو مشرقی پاکستان ہم سے علیحدہ ہو جائے گا۔ 1958میں گورنر جنرل اسکندر مرزا نے ایوب خان کے ذریعے مارشل لا لگایا اور چند دنوں بعد ایوب خان نے اسکندر مرزا سے زبردستی استعفیٰ لیکر خود اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ یہی وہ چند دن تھے جن میں اسکندر مرزا نے ایوب خان کو وزیراعظم بنانے کا نوٹیفیکیشن جاری کیا لیکن ایوب خان نے اگلے ہی دن اپنے باس کو ہٹایا اور خود باس بن گیا۔ 1962میں ایوب خان نے پاکستان پر ایک صدارتی آئین مسلط کیا جس نے مشرقی پاکستان میں بےچینی پیدا کی اور 1971میں وہ سانحہ ہو گیا جس کی پیشین گوئی قائداعظمؒ کے ساتھی سردار عبدالرب نشتر نے پہلے مار شل لا سے بہت پہلے کر دی تھی۔ڈاکٹر صفدر محمود کی اِس کتاب میں کہا گیا ہے کہ بانیٔ پاکستان قائداعظمؒ سیاست میں فوج کی مداخلت کے خلاف تھے۔ قائداعظم ؒنے بطور گورنر جنرل ایک دفعہ ایوب خان کی فائل پر لکھا کہ ’’میں اِس آرمی افسر کو جانتا ہوں، یہ فوجی معاملات سے زیادہ سیاست میں دلچسپی لیتا ہے‘‘۔ قائداعظمؒ کی وفات کے بعد اُس افسر کو فوج کا سربراہ بنا دیا گیا۔ سیاسی حکومت نے اپنی کمزوریوں اور نااہلی کے نتیجے میں فوج کو خود سول معاملات میں ملوث کیا اور پھر ایوب خان کو ایکسٹینشن بھی دی اور آخرکار ایوب خان اُن سب کا باس بن گیا۔ ڈاکٹر صفدر محمود نے اپنی اِس کتاب میں بار بار لکھا ہے کہ فوج کی سیاست میں مداخلت کی وجہ جمہوری اداروں کی کمزوری اور سیاست دانوں کا باہمی نفاق ہے۔ آپ آج کی صورتحال دیکھ لیں۔

جنرل ایوب خان کے پوتے اور سردار عبدالرب نشتر کی پوتی کا لیڈر عمران خان ہے لیکن عمران خان جب سے حکومت میں آئے ہیں، وہ اپوزیشن، میڈیا اور عدلیہ سے برسر پیکار ہیں۔ اپوزیشن کا حال دیکھ لیں۔ کچھ عرصہ قبل گیارہ اپوزیشن جماعتوں نے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے نام سے ایک اتحاد بنایا لیکن اِس اتحاد میں نفاق سب کے سامنے ہے۔ 19 اکتوبر کو کراچی میں آئی جی سندھ کے مبینہ اغوا کے واقعے کی تحقیقات کیلئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے حکم پر ایک کورٹ آف انکوائری بنایا گیا۔ اِس کورٹ آف انکوائری نے رینجرز اور آئی ایس آئی کے کچھ افسران کو ٹرانسفر کر دیا ہے اور اُن کے خلاف مزید محکمانہ کارروائی کی سفارش کی ہے۔ پیپلزپارٹی کے چیئر پرسن بلاول بھٹو زرداری نے اِس اقدام کا خیر مقدم کیا ہے جبکہ مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف نے اِسے مسترد کر دیا ہے کیونکہ اُن افسران کے نام ظاہر نہیں کئے گئے جن کے خلاف کارروائی کی گئی۔ بلاول بھٹو زرداری اور نواز شریف کے موقف میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ پی ڈی ایم کی ایک اور جماعت بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ اختر مینگل نے بھی نواز شریف کی طرح کورٹ آف انکوائری کی رپورٹ کیلئے ’’مسترد‘‘ کا لفظ استعمال کیا ہے۔ باخبر ذرائع کے مطابق محمود خان اچکزئی، ڈاکٹر مالک، علامہ ساجد میر، اویس نورانی اور منظور پشتین بھی نواز شریف کے موقف کے حامی ہیں۔ مولانا فضل الرحمٰن بھی نواز شریف کے موقف کو درست سمجھتے ہیں لیکن وہ اِس معاملے پر سکوتِ حکیمانہ یعنی مصلحت کے تحت خاموشی کے قائل ہیں تاکہ پی ڈی ایم میں اختلافات نہ بڑھیں۔ پیپلز پارٹی کے کچھ اہم رہنما اپنی پارٹی کی پالیسی کو کنفیوژ قرار دیتے ہیں۔ اُن کا خیال ہے کہ کچھ عرصہ قبل تک مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی دونوں کسی کے نشانے پر تھیں اور دونوں کی قیادت پر نت نئے مقدمات بن رہے تھے لیکن جب نواز شریف نے کچھ شخصیات کے نام لینا شروع کئے تو پیپلز پارٹی کی لاٹری نکل آئی۔ پیپلز پارٹی کے بیک ڈور رابطوں میں تیزی آ گئی۔ اب پیپلز پارٹی اِن رابطوں سے کوئی فائدہ اٹھاتی ہے تو اس کا کریڈٹ نواز شریف کو ملے گا، اس میں پیپلز پارٹی کا کوئی کمال نہیں ہوگا۔ اپوزیشن اتحاد کو کمزور کرکے پیپلز پارٹی کو وقتی طور پر تو فائدہ ملے گا لیکن لانگ ٹرم میں نقصان ہوگا۔دوسری طرف حکومت کا حال دیکھ لیں۔ پاکستان کے سب سے بڑے صوبے میں تحریک انصاف کی حکومت ہے۔ پنجاب اسمبلی نے قرار داد منظور کی کہ گندم کی امدادی قیمت دو ہزار روپے فی من ہونی چاہئے لیکن وفاقی حکومت نے فیصلہ کیا کہ یہ قیمت 1650روپے فی من ہوگی۔ تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ق) کے اختلافات اب کوئی راز نہیں رہے۔ اسی پنجاب میں راوی ریور فرنٹ پروجیکٹ کے تحت ایک نیا شہر بسایا جا رہا ہے۔ حکومت کی اتحادی جماعت مسلم لیگ فنکشنل کے صوبائی جنرل سیکرٹری مصطفیٰ رشید نے 26نومبر کو اِس منصوبے کے خلاف پنجاب اسمبلی کے باہر مظاہرے کا اعلان کر دیا ہے۔ یعنی حکومت کے خلاف حکومت مظاہرہ کریگی۔ حکومت کو حکومت کے اتحادیوں کی پروانہیں، اپوزیشن کو اپوزیشن کے اتحادیوں کی پروا نہیں لیکن اچھی بات یہ ہے کہ فوج سیاست میں مداخلت سے دور رہنا چاہتی ہے۔ بہتر ہوگا کہ کراچی واقعے میں ملوث افسران کے نام اور کورٹ آف انکوائری کی رپورٹ کو منظر عام پر لایا جائے۔

سیاست دانوں کے نام سامنے آ سکتے ہیں تو قانون توڑنے والے افسران کے کیوں نہیں؟ عوام کے شدید دباؤ پر یہ افسران قانون توڑ سکتے ہیں تو عوام کے شدید دباؤ پر ایک رپورٹ کو منظر عام پر بھی لایا جائے۔