نااہلی کیس: اگر واوڈا امریکی شہری نہیں تھے تو کوئی مسئلہ ہی نہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ

اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس عامر فاروق نے فیصل واوڈا نااہلی کیس میں ریمارکس دیےکہ یہ کسی کو ڈی سیٹ کرنے کا معاملہ ہے اور اگر فیصل واوڈا امریکی شہری نہیں تھے تو کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس عامر فاروق نے وفاقی وزیر فیصل واوڈا کی نااہلی کے کیس کی سماعت کی جس میں درخواست گزار میاں فیصل ایڈووکیٹ کی جانب سے بیرسٹر جہانگیر جدون پیش ہوئے جب کہ فیصل واوڈا کے وکیل محمد بن محسن نے اپنا وکالت نامہ واپس لے لیا اور ان کی جگہ ہارون دگل نے وفاقی وزیر کے نئے وکیل کے طور پر وکالت نامہ جمع کرایا۔ دورانِ سماعت جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ اس کیس میں جزوی دلائل ہو چکے ہیں، پٹیشنر کا کیس یہ ہے کہ کاغذات نامزدگی کے وقت فیصل واوڈا امریکی شہری تھے، الیکشن کمیشن کے ریکارڈ سے دستاویزات منگوائی تھیں، یہ سارا معاملہ ہی تاریخوں کا ہے، آپ وہ دیکھ لیں۔ فیصل واوڈ کے وکیل نے استدعا کی کہ الیکشن کمیشن کی دستاویزات فراہم کرنے کا حکم دیا جائے اور جواب داخل کرانے کے لیے کچھ مہلت دی جائے، اس پر عدالت نے کہا کہ کاغذات نامزدگی اور بیان حلفی آپ کا ہی داخل کرایا ہوا ہے۔ جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ یہ کو وارنٹو کا کیس ہے، کسی کو ڈی سیٹ کرنے کا معاملہ ہے، اگر فیصل واوڈا امریکی شہری نہیں تھے تو کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے۔

عدالت نے فیصل واوڈا کے وکیل کی مہلت کی استدعا منظور کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 15 دسمبر تک ملتوی کر دی۔