پی آئی اے نے 3500 ملازمین کو گھر بھیجنے کا منصوبہ تیار کرلیا

اسلام آباد پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) نے 3500 ملازمین کو گھر بھیجنے کا منصوبہ تیار کرلیا ۔ والنٹری سیپریشن سکیم کے تحت ساڑھے تین ہزار ملازمین گھر جائیں گے ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ملازمین کو گھر بھیجنے کے لیے پی آئی اے نے حکومت سے 12 ارب روپے سے زائد رقم طلب کرلی ہے۔پی آئی اے کی جانب سے ملازمین کو گھر بھیجنے کے لئے والنٹری سیپریشن اسکیم تیار کی گئی ہے۔
پی آئی اے نے اسکیم کی مد میں حکومت سے 12 ارب 87 کروڑ روپے مانگ لیے ہیں۔ وی ایس ایس سکیم کے تحت فارغ کیے جانے والے ملازمین کو ادائیگیاں اڑھائی سال کے عرصے میں کی جائیں گی۔ اس حوالے سے پی آئی کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ والنٹری سیپریشن سکیم کے تحت ادارے سے افرادی قوت کا بوجھ کم ہوگا جبکہ ملازمین کو گھر بھیجنے سے ادارے کو سالانہ 4 ارب 20 کروڑ روپے کی بچت ہوگی۔

واضح رہے کہ پی آئی اے کی جانب سے 18 سال سے زائد عرصے تک ملازمت کرنے والے ملازمین کو گولڈن ہینڈ شیک دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ پی آئی اے حکام کے مطابق 60 سال سے کم عمر ملازمین رضا کارانہ طور پر استعفیٰ دے کر سکیم سے مستفید ہو سکتے ہیں۔ سکیم کے تحت 18 سال سے زائد اور کم مدت ملازمت کے حامل ملازمین کی دو الگ کیٹگیریز بنائی گئی ہیں جن کے مطابق ان ملازمین کو مراعات دی جائیں گی۔
پی آئی اے حکام کے مطابق ملازمین کے لیے والنٹری سیپریشن سکیم نومبر کے پہلے ہفتے میں متعارف کی جائے گی۔ گزشتہ ماہ پی آئی اے کی جانب سے کہا گیا تھا کہ پی آئی اے کے 2700 ملازمین اس سکیم سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔ جبکہ اب پی آئی نے سکیم کے لیے 3500 ملازمین کے نام فائنل کیے ہیں ۔ سکیم کی قبولیت کے لیے 14 روز کی مہلت دی جائے گی۔ ملازمین کو 14 دن تک سکیم قبول کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کرنا ہوگا۔ واضح رہے کہ وفاقی وزرات خزانہ نے وزارت قانون اور وزارت افرادی قوت کی رائے کے لئے سکیم کو وزارت ہوابازی کوواپس بھیج دیا ہے، وی ایس ایس نامی سکیم ای سی سی سے بھی منظوری لی جائے گی۔ ذرائع کے مطابق وی ایس ایس نامی اسکیم کی وفاقی کابینہ کی اصولی منظوری حا صل کر لی گئی ہے۔