جب تک عوام کی اونر شپ نہیں ہو گی مسائل حل نہیں ہونگے ، فاروق ستار

پاکستان میں حقیقی جمہوریت کبھی آئی ہی نہیں ، کلیدی عہدوں پر غیر جاندار لوگوں کو بٹھانا ہو گا تو مسائل حل ہونگے
سیاسی پارٹیاں رائے عامہ ہموار کرنے کیلئے کرداروں کے اشہارات چلاتی ہیں ، پھر شفاف انتخابات کیسی ہو سکتے ہیں
عوام انتخابات میں 35سے 40 سال کی عمر کے لوگوں کو منتخب کریں ، مورثی سیاست ختم ہونی چاہئے ، سچی بات میں گفتگو

اسلام آباد (روزنیوزرپورٹ)سنیئر سیاستدان فاروق ستارنے کہا کہ ملک پریشانیوں میں گھرا ہوا ہے ، اللہ تعالیٰ کرے سب اپنی ذمہ داریاں پوری کریں ، انہوں نے کہا کہ عام لوگوں کو جو مسائل کا سامنا ہے ، صحیح جمہوریت کبھی آئی نہیں ، جاگیرداروں کا مکمل کنٹرول ہے ، کلیدی عہدوں پر غیر جانبدار لوگوں کو بٹھانا ہو گا، فیصلے میرٹ پر کیے جائیں ، میں انتخابی اصلاحات کے حوالے سے کمیٹی میں بیٹھتا تھا، وہاں پر بہت سارے مسائل زیر بحث آتے تھے ، ایم این اے ، ایم پی ایز پر خرچے کے حوالے پابندیاں لیکن سیاسی جماعتیں رائے عامہ تبدیل کرنے کیلئے کروڑوں روپے کے اشتہارات چلا لیتی ہیں تو پھر شفاف انتخابات کیسے ہونگے ، پولیس سیاست کی نظر ہے ، اس کی تربیت میں سیاسی عوامل کار فرما ہیں ، جب ایم کیو ایم آئی تھی کچھ حالات میں بہتری آئی ، وڈیروں کامقابلہ کیا، لیکن یہ مقابلہ جاری نہ رہ سکا ، پاکستان کے طبقے اور گروہ فیصلہ کرلیں کہ انتخابات میں ان افراد کو منتخب کریں گے جن کی عمریں 35سے چالیس سال ہوں ، وہ محنتی بھی ہونگے ، مورثی سیاست کا خاتمہ ہونا چاہئے ، جب تک عوام کو اونر شپ نہیں ملے گی مسائل حل نہیں ہونگے ، سیف کراچی میک کراچی کی تحریک چلانا ہوگی، کراچی 60سے 70فیصد ریونیودیتا ہے اور صوبائی سطح پر 90فیص ریونیو دیتا ہے ، میرے خیال میں پاکستان کی ترقی کیلئے کراچی کے حالات کو درست کرنا ہو گا اور اس کے حقوق کیلئے آواز اٹھانا ہو گی ۔