کشمیر کاز کے لئے حکومت کی سیاسی ، سفارتی اور اخلاقی مدد بلاجواز جاری رہے گی۔ جنرل (ر) راحیل شریف

پاکستانی سفارتخانے نے ڈپلومیٹک کوارٹر میں سفیر پاکستان راجہ علی اعجاز کی رہائش گاہ پر مقبوضہ جموں کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال اور علاقائی امن کے حوالے سے سیمینار کا انعقاد کیا۔
سیمنیار میں اسلامی عسکری اتحاد فوج کے کمانڈر جنرل ریٹائرڈ راحیل شریف ، سابق سعودی بریگیڈیئر جنرل محمد حسن کاملی پاکستان میں سابق سعودی سفیر
اور سکالر علی عواد العسیری سمیت سفارتخانہ کے افسران اور پاکستانی کمیونٹی کی نمایاں شخصیات نے شرکت کی۔

جنرل (ر) راحیل شریف نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے اپنے کشمیری بھائیوں کے دکھوں کو قریب سے دیکھا ہے۔
تقسیم ہند کے بعد سے ہی ہندوستان میں غیر قانونی مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی ہولناک خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نرندر مودی کی فاشسٹ اور جابرانہ حکومت کی طرف سے مکمل تالا بندی ، وحشیانہ قتل و غارت گری اور غیر انسانی سلوک کے باوجود ، بھارتی فوج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے کشمیریوں کی مرضی اور عزم کو توڑنے میں بری طرح ناکام رہے ہیں۔….
اگست 2019 سے ہندوستانی مظالم میں اضافہ ہوا ہے جب بھارت نے آرٹیکل 370 اور 35 اے کو کالعدم قرار دیا

اگر اقوام متحدہ کی قرار دادوں کی صریحاً خلاف ورزی ، معصوم کشمیریوں کے بنیادی حق خودارادیت سے محروم کرنے سے خطے میں کشیدگی اور بدامنی مزید بڑھے گی۔
راحیل شریف نے مزید کہا کہ وقت آگیا ہے کہ ہندوستانی فاشسٹ قیادت مسئلہ کشمیر کا حل لوگوں کو مارنے اور دبانے، جھوٹ بولنے، کی بجائے انکی امنگوں اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں حل کرے۔

کشمیر کاز کے لئے حکومت کی سیاسی ، سفارتی اور اخلاقی مدد بلاجواز جاری رہے گی۔
یہ بات بڑی واضح ہے کہ پاکستان کا ہر شہری کشمیری عوام کے ساتھ متحد ہے اور ایک عدم استحکام کے ساتھ ان کی جدوجہد آزادی کی حمایت کرتا ہے۔

اقوام متحدہ ایپیکس آرگنائزیشن کے ذریعہ منظور کی جانے والی قرار دادوں کے تقدس کا احترام کرے.

سفیر پاکستان راجہ علی اعجاز نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے مقبوضہ جموں و کشمیر کی عوام پر مظالم ڈھائے جانے کی بھرپور مذمت کی اور کہا کہ ہندوستان کشمیریوں پر مظالم فوری طور پر بند کرے اور اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق کشمیریوں کو انکا حق خودارادیت دے۔ اور عالمی برادری کو کشمیریوں پر ہونے والے ظلم کے سلسلہ کو فوری بند کروانا چاہیئے کیونکہ یہ انسانی حقوق کی سراسر خلاف ورزی ہے جس طرح کشمیریوں کے ساتھ ہندوستان سلوک کرتا چلا آرہا ہے۔ پاکستان ہر سطح پر کشمیریوں کی حمایت جاری رکھے گا۔

سیمینار سے بریگیڈیر جنرل محمد حسن کاملی نے کہا کہ ’پاکستان میرے دل کے بہت قریب ہے۔ اپنے پروفیشنل کیریئر میں پاکستانی سے ٹریننگ سمیت کئی کورسز کیے اور بہت سے دوست بنائے ہیں‘۔ انہوں نے انڈیا کے زیر کنٹرول کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کیا۔

پاکستان میں سابق سعودی سفیر اور سکالر ڈاکٹر علی عواد العسیری نے اپنے خطاب میں کہا کہ ۔انڈیا کے زیر کنٹرول کشمیر میں لاک ڈاون، جبر خصوصا ڈیموگرافک تبدیلیوں کی کوشش سے کشمیر کے لوگ اب اور بھی خطرناک صورتحال سے دوچار ہیں‘جس کے حل کے کیے ہر سطح پر کوشش کرنی چاہیئے۔