چھالیہ اگر گٹکا نہیں ہے تو کیوں ضبط کی جارہی ہے؟ سندھ ہائیکورٹ

کراچی : سندھ ہائیکورٹ نے پولیس کی جانب سے چھالیہ ضبط کرنے اور مقدمات درج کرنے کے خلاف درخواست کی سماعت پر سندھ فوڈ اتھارٹی کو نوٹس جاری کردیا، عدالت کا کہنا ہے کہ چھالیہ گٹکا نہیں ہے تو پھر کیوں ضبط کی جارہی ہے؟

سندھ ہائی کورٹ میں چھالیہ ضبط کرنے اور مقدمات کیخلاف درخواست کی سماعت ہوئی، عدالت نے سندھ فوڈ اتھارٹی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے درخواست گزار کے وکیل سے چھالیہ سے متعلق قانونی نکات طلب کرلیے۔ اس موقع پر اسسٹنٹ اے جی نے اپنے بیان میں کہا کہ گٹکا آرڈیننس کے تحت چھالیہ کی فروخت پر پابندی نہیں ہے تاہم چھالیہ کا مکسچر مضر صحت ہوسکتا ہے۔

تفتیشی افسر نے ضبط شدہ چھالیہ کا تھیلا عدالت میں پیش کردیا، جسٹس محمد علی مظہر نے تھیلے کو کھلوا کر چھالیہ کا جائزہ لیا، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ یہ مقدمہ آرڈیننس پاس ہونے کے 4 ماہ بعد درج کیا گیا، کیا پولیس کو بتایا نہیں گیا تھا کہ چھالیہ پرپابندی نہیں ہے؟

اسسٹنٹ اے جی نے بتایا کہ آرڈیننس کے حوالے پولیس اور تفتیشی ٹیم کو آگاہ کیا جارہا ہے، درخواست گزار نے اپنی درخواست میں کہا تھا کہ پولیس جھوٹے مقدمات بنا کر تاجروں کو تنگ کررہی ہے۔

اس سے قبل گزشتہ ماہ ہونے والی سماعت میں ریمارکس دیتے ہوئے جسٹس محمد علی مظہر نے کہا تھا کہ چھالیہ گٹکا نہیں ہے تو پھر کیوں ضبط کی جارہی ہے، چھالیہ پان میں بھی ڈالی جاتی ہیں، پان تو بہت سے لوگ کھاتے ہیں۔

اس موقع پر وکیل درخواست گزار نے عدالت کو بتایا تھا کہ پولیس نے 95 بوری چھالیہ قبضے میں لے کر مقدمہ درج کرلیا، ایکٹ کا غلط استعمال کرکے پولیس اہلکار پان اور چھالیہ فروخت کرنے والوں کو بھی تنگ کرتے ہیں۔