سندھ میں پیپلزپارٹی کے 200 کارکنان تحریک انصاف میں شامل

دادو: پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی) کے مقامی رہنما نے 200 پارٹی کارکنان کے ہمراہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) میں شمولیت کا اعلان کردیا۔

یہ اعلان انہوں نے جوہی ٹاؤن میں پی ٹی آئی رہنما لیاقت علی جتوئی کے ساتھ ہونے والے ملاقات میں کیا۔

رپورٹ کے مطابق سابق وزیر اعلیٰ سندھ کا پریس کانفرنس میں کہنا تھا کہ وہ پیپلز پارٹی کے رہنما رئیس لال خان لغاری جو وزیراعلیٰ سندھ کے معاون خصوصی ڈاکٹر بنداہ علی لغاری کے قریبی دوست اور رشتے دار بھی ہیں انہیں پی ٹی آئی میں خوش آمدید کہتے ہیں۔ ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان اصل ہیرو اور ملک و قوم کے مخلص رہنما ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی حکومت مظاہروں اور احتجاج کے ذریعے اپنی جگہ سے نہیں ہل پائے گی، سندھ کے عوام نے خاص طور پر دادو کے ووٹرز نے 2018 کے عام انتخابات میں پی ٹی آئی کے امیدواروں کو بڑی تعداد میں ووٹ دیے لیکن جب نتائج کا اعلان ہوا تو یہ دیکھا گیا کہ تمام پولنگ اسٹیشنز سے پیپلزپارٹی کے امیدوار کامیاب ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ اور دادو میں لاکھوں پی ٹی آئی ووٹرز کو وفاقی حکومت کی جانب سے نظرانداز کیے جانے اور پیپلزپارٹی کے بدعنوان حکمرانوں کی جانب سے پی ٹی آئی ووٹرز کی وفاداریاں تبدیل کرنے کوشش پر سخت تحفظات ہیں۔ انہوں نے شکایت کرتے ہوئے کہا کہ ایسا لگتا ہے وزیراعظم عمران خان دادو میں اپنے ووٹرز کو بھول گئے ہیں، یہاں سے تقریباً3 لاکھ لوگوں نے عمران خان کو ووٹ دیے لیکن افسوس ہے کہ حالیہ سیلاب میں وفاقی حکومت کا کوئی نمائئندہ ہم تک نہیں پہنچا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ سیکڑوں لوگ بے روزگار ہوگئے لیکن حکومت سندھ نے ان کی کوئی فکر نہیں، یہی نہیں بلکہ حکومت سندھ نے تعلقہ جوہی کے لوگوں کو ٹپے دار اور ریونیو حکام کے ذریعے دھوکا دیا اور اصل میں سیلاب کے دوران ان کی کوئی مدد نہیں کی۔ مزید برآں انہوں نے کہا کہ کھانے پینے کی اشیا کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو کنٹرول کرنا صوبائی حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے لیکن وزیر اعلیٰ سندھ وزیراعظم کو مہنگائی کا قصور وار ٹھہراتے ہیں۔