صفدر کے خلاف جھوٹ پر مبنی ایف آئی کرائی گئی: وزیراعلی سندھ

وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی قیادت نے سازش کے ذریعے مزار قائد کی بے حرمتی کا جھوٹا مقدمہ بنایا۔
کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہا کہ کیپٹن صفدر اور مریم نواز کی مزار قائد پر حاضری کے وقت پی ٹی آئی کارکن کی وہاں موجودگی سے ظاہر ہوتا ہے کہ کوئی سازش تھی۔ ’جب ایک پارٹی کا ایونٹ ہو تو مخالف جماعت کے ممبران کا وہاں ہونا سازش کو ظاہر کرتا ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ جب پی ٹی آئی کے ایک ایم پی اے نے درخواست لے کر آئے تو پولیس نے انہیں سمجھایا کہ ایسا نہیں ہوتا، اور یہ طریقہ قانونی نہیں۔
’پھر مزار قائد ایڈمنسٹریٹو بورڈ کا ایک بندہ درخواست دینے آتا ہے، اسے بھی سمجھایا جاتا ہے کہ یہ پولیس کا دائرہ اختیار نہیں، یہ درخواست مجسٹریٹ کو دی جاتی ہے سی آر پی سی 260 کے تحت۔‘

جیسے جیسے جلسہ بڑھ رہا تھا، ویسے ویسے انکی بوکھلاہٹ بڑھ رہی تھی اور درخواست پر درخواست جمع ہو رہی تھی۔ پیپلز پارٹی کی حکومت کبھی بھی غلط کام کرنے پولیس کو نہیں کہے گی، کیک پولیس پر دباؤ ڈالا گیا۔ جلسے کی رات ہم تو کامیاب جلسہ کر کے گھر آگئے، تھک گئے تھے۔ وزیر اعلی نے کہا کہ جب ہم صبح اٹھے تو پتہ چلا کہ مقدمہ درج ہو چکا ہے، اور جو صاحب مقدمے میں نامزد تھے انہیں گرفتار بھی کرلیا گیا ہے۔

باقائدہ پلاننگ کر کے جھوٹا مقدمہ بنایا گیا۔ انہوں نے کہا جس طرح کیپٹن صفدر کو گرفتار کیا گیا اس پر تحفظات ہیں۔
’جلسے والے دن ایک میٹنگ ہوتی ہے، جس میں فیصلہ ہوتا ہے کہ قائد کا مزار کو استعمال کرنا ہے مذموم مقاصد کے لیے۔ ان جھوٹوں کا سارا پلان ناکام ہونا ہی تھا، جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے۔ ایک وفاقی وزیر بھی الٹیمیٹم دے رہے تھے۔ جو نمبر وقاص نے درخواست میں دیا، جو اس کے نام سے رجسٹرڈ ہے۔ اس نے ایف آئی آر میں لکھوایا کہ یہ ساڑھے چار بجے مزار کے احاطے میں موجود تھا۔ جبکہ جب فون لوکیشن ٹریک کی گئی، تو یہ ساڑھے چار بجے سے 5 تک سپر ہائی وے پر بقائی میڈیکل کالج کے پاس موجود تھا۔‘
وزیر اعلی نے کہا جس طریقے سے ایف آئی آر کٹی اور گرفتار کیا گیا اس پر مجھے تحفظات ہیں۔ ’جب کیپٹن صفدر کو کورٹ میں پیش کیا گیا، تو پولیس نے بتایا کہ جو تفتیش کرنی تھی ان سے وہ کی جاچکی ہے، ہمیں یہ بندہ مطلوب نہیں۔ جس پر انہیں ضمانت دے دی گئی۔‘
’جب پولیس اپنا کام کر رہی تھی، تب کچھ اور باتیں بھی سامنے آئیں جو تشویش ناک ہیں۔ باتیں آئیں ہیں سامنے، آپ نے سنی ہیں۔ میں دہرانا نہیں چاہتا کیوں کہ ہم نے انکوائری بٹھائی ہے اس پر اثرانداز نہیں ہونا چاہتے ہیں۔‘
انہوں نے اعلان کیا کہ پی ٹی آئی کے لیڈران کو بھی شامل تفتیش کیا جائے گا۔ ’تھانے میں جانا جرم نہیں لیکن جھوٹی ایف آئی آر کٹوانے کے ارادے سے جانا درست نہیں۔‘
’ہم ایک منسٹر لیول کمیٹی بنا رہے ہیں، تین سے پانج وزراء اس میں شامل ہوں گے۔ ابھی نام فائنل نہیں ہوئے۔ اگر ابھی میڈیا کہ سامنے کچھ بولوں گا، وہ اس انکوائری پر اثرانداز ہوگا۔‘