سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاؤن عملدرآمد کیس کا فیصلہ سنا دیا

اسلام آباد:سپریم کورٹ نے 460 ارب روپے خرچ کرنے سے متعلق بحریہ ٹاؤن عملدرآمد کیس کا فیصلہ سنا دیا ، رقم سندھ ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کرنے کیلئے کمیشن تشکیل دے دیا گیا، سربراہ کی تعیناتی چیف جسٹس پاکستان کریں گے۔

سپریم کورٹ نے 460 ارب روپے خرچ کرنے سے متعلق بحریہ ٹاؤن عملدرآمد کیس کا 10 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کردیا۔

تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ اٹارنی جنرل کی استدعا منظور کی جاتی ہے،460 ارب سندھ ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کرنے کیلئے کمیشن تشکیل دیا جاتا ہے، 11رکنی کمیشن کا سربراہ سندھ سے سپریم کورٹ کا ریٹائرڈ جج ہوگا، کمیشن میں گورنر سندھ،وزیر اعلیٰ سندھ کا نمائندہ شامل ہوگا، اٹارنی جنرل، ایڈووکیٹ جنرل سندھ، چیف سیکرٹری سندھ سمیت 11ممبران ہوں گے۔

فیصلے میں کہا گیا کہ کمیشن کے 5ممبران کو ووٹ استعمال کرنے کا حق حاصل ہو گا، بقیہ ممبران کمشن میں اپنے ووٹ کا حق استعمال نہیں کر سکیں گے، کمیشن کے چیئرمین اور ممبران 4 سال کیلئے منتخب ہوں گے،کمیشن کے پاس اختیار ہے کہ ممبران کی مدت پوری ہونے کے بعد نئے ممبران کا تقرر کرے۔

کمیشن کے اجلاس میں کورم پورا کرنا ضروری ہوگا، کمیشن کا عملہ سندھ حکومت فراہم اور تمام اخراجات بھی برداشت کرے گی، کمیشن کے کسی فیصلہ پر اختلاف کی صورت میں عملدرآمد بینج اس کا حل نکالے گا۔

سپریم کورٹ کے مطابق کمیشن اپنا پہلا اجلاس آئندہ برس 25 جنوری کو یا اس سے پہلے منعقد کرے ،کمیشن سندھ میں عوامی اہمیت کے حامل منصوبوں کی سفارش کرے گا، کسی بھی منصوبے کی نگرانی کیلئےکمیٹی بنائی جائے گی جو کمیشن کو رپورٹ جمع کرائے گی، آڈٹ رپورٹ عملدرآمد بینچ کے سامنے رکھی جائے گی۔