25 سالوں سے زراعت کے شعبے کو نظرانداز کیا گیا، فخر امام

اسلام آباد: جہاں زراعت کا شعبہ بڑی فصلوں بالخصوص گندم اور روئی کی کم ہونے والی پیداوار کے ساتھ ناقص کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہے وہیں وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق سید فخر امام نے کہا ہے کہ ملک میں زراعت کی ترقی کے لیے اچھے سائنسدانوں کی کمی ہے۔

رپورٹ کے مطابق عالمی یوم خوراک کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فخر امام نے زور دیا کہ ’ہمیں اپنی غلطیوں پر توجہ دینی ہوگی اور اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا ہوگا کیونکہ ہم اپنے لوگوں کو غذا بخش چیزیں فراہم کرنے سے قاصر ہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ 25 سالوں سے ملک میں زراعت کے شعبے کو نظرانداز کیا گیا ہے اور لوگوں کی بہتری کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیے گئے۔

فخر امام نے کہا کہ موجودہ حکومت زراعت کے شعبے کی ترقی کے لیے پالیسیوں پر کام کر رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کو غذائی تحفظ کی فراہمی کو یقینی بنانے میں زراعت کی اہمیت کا بخوبی ادراک ہوچکا ہے اور کھادوں ، بیجوں اور کیڑے مار دواؤں کی مستقل فراہمی کی مناسب قیمتوں پر توجہ دی جارہی ہے تاکہ ایسا ماحول پیدا کیا جاسکے جس سے کسانوں کو اپنی پیداوار پر مناسب فائدہ حاصل ہوسکے۔

اس موقع پرپاکستان زرعی تحقیقاتی مرکز (پی اے آر سی) کے چیئرمین ڈاکٹر محمد عظیم خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ‘ہم نے ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے زراعت کے شعبے کی کارکردگی پر سمجھوتہ کیا ہے اور خوراک کا عدم تحفظ ماحولیاتی تبدیلی کے بدترین اثرات میں سے ایک ہے‘۔

پی اے آر سی نے کامیابی کے ساتھ تحقیق کی ہے اور اب وہ ان کھانوں کو فروغ دے رہی ہے جن میں اعلی معیار کی پروٹین موجود ہے اور جو معدنیات اور وٹامنز کا بھرپور ذریعہ ہے جیسے مچھلی، سویا بین اور اس کی مصنوعات اور دودھ کی مصنوعات۔

گندم کی درآمد
دریں اثنا وزارت قومی فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ نے کہا ہے کہ پاکستان میں اب اگلی فصل تک گندم محفوظ ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ قلت کے دعوے غلط ہیں اور عوامی شعبے کے لیے 48 لاکھ 83 ہزار ٹن گندم دستیاب ہے۔

صوبائی کراپ رپورٹنگ سروسز نے وزارت کو بتایا کہ 16 لاکھ ٹن کی قلت ہے۔ فیصلہ کیا گیا ہے کہ گندم کی درآمد کو 3 طرفہ حکمت عملی کے ساتھ پورا کیا جائے گا جس میں سرکاری، نجی اور حکومت سے حکومت (جی ٹی جی) کی بنیاد پر درآمد شامل ہے۔