دو ہزار روپے لے کر جلسے میں آیا ہوں،ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل

لاہور (روزنیوز) گزشتہ روز اپوزیشن کی گیارہ جماعتوں نے اکٹھے ہو کر پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے گوجرانوالہ میں حکومت کو للکارتے ہوئے ایک بھرپور جلسہ کیا۔اگر اپوزیشن راہنماﺅں سے پوچھا جائے تو جلسہ بہت بڑااور کامیاب تھا لاکھوں لوگ آئے۔جبکہ حکومتی وزیر مشیر اس جلسے کو ناکام جلسی کا نام دے رہے ہیں۔اگر آزاد رائے رکھنے والوں سے بات کی جائے تو پتا چلتا ہے کہ جلسہ نہ تو اتنا بڑا تھا کہ حکومت لرز کر رہ گئی اور نہ ہی جلسی تھی کہ پی ڈی ایم ناکام ہو گئی۔یہ ایک مناسب جلسہ تھا جو کسی حد تک کامیاب بھی ہوا ہے اور اگر جلسوں کی یہ روایت چل پڑی تو آہستہ آہستہ شرکا کی تعداد بڑھتی چلی جائے گی اور اگر اس جلسے میں ”لکشمی“ کااضافہ ہو گیا تو حکومتی ایوانوں کو لرزانے کے لیے کافی ہو گا۔

گزشتہ روز کئی صحافی بھی جلسے کی کوریج کے لیے گئے ہوئے تھے اور جلسے کی کئی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل بھی ہوئیں ۔انہی میں سے ایک ویڈیو ن لیگ کے جیالے کی بھی تھی جو ببانگ دہل کہہ رہا تھا کہ جلسے پر آنے کا میرا دو ہزار روپے کا خرچہ ہوا اور یہ پیسے مجھے ن لیگ کے قائدین میں سے کوئی وزیر مشیر دے دیتا ہے۔جیالے نے شاہد خاقان عباسی،مرتضیٰ لوتھااور بابر نواز کا نام لیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ لوگ یا پھر کوئی اور وزیر مجھے پیسے دے دیتے ہیںمیں نے کبھی ان سے مانگے نہیں ہیں جتنا ان کا دل کرتا ہے کبھی پانچ سو کبھی ہزار تو کبھی دو ہزار روپے دیتے ہیں اس سے میں اپنا خرچہ بھی کرتا ہوں اور جلسے میں آنے کا خرچہ بھی کرتا ہوں۔

گویا ثابت ہوا کہ جلسے میں آنے کے لیے کارکنوں کو پانچ سو سے دو ہزار روپے تک دیے گئے تھے جو کہ خرچے کے نا م پر دیے گئے تھے۔کچھ وزرااور پارٹی کے جیالوں نے تو میڈیا کے سامنے بھی مریم نواز کی گاڑی پر اسٹیج پر کھڑے ہوئے نوٹوں کی بارش کر دی تھی جبکہ کچھ لوگ اپنے کارکنوں کو گھر سے پیسے دے کر لائے تھے اور انہوں نے جلسے میں آ کر سارا بھانڈا پھوڑ دیا۔