کراچی میں مذہبی اسکالر مولانا عادل کے قتل کے خلاف ہڑتال، مظاہرے

جامعہ فاروقیہ مہتمم مولانا ڈاکٹر عادل خان کے قتل کے خلاف مذہبی جماعتوں کی جانب سے کراچی کے مختلف علاقوں میں احتجاج کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق احتجاج کی کال گزشتہ روز کراچی علما کمیٹی (کے یو سی) کی جانب سے دی گئی تھی، کمیٹی کی جانب سے امن وامان کی یقین دہانی کراتے ہوئے شہر بھر میں ‘پہیہ جام’ ہڑتال کرنے کا کہا گیا تھا۔

ہڑتال کے باعث شہر کے مختلف علاقوں میں کچھ دکانیں بند ہیں جبکہ سڑکوں پر پبلک ٹرانسپورٹ نہ ہونے کے برابر تھی، کراچی علما کمیٹی کے زور دینے پر تمام تاجروں اور ٹرانسپورٹرز نے آج شہر بھر میں اپنے کاروبار بند رکھے جبکہ پولیس اور رینجرز اہلکاروں کی بڑی تعداد شہر کے مختلف علاقوں میں تعینات ہے۔

مزید یہ کہ مذہبی جماعتوں کی جانب سے احتجاج کا سلسلہ کراچی کے علاقے ناگن چورنگی سے شروع ہوا، جو لسبیلہ چوک، بنارس چوک، داود چوک اور قیوم آباد سے ہوتا ہوا لی مارکیٹ پر ختم ہوا۔

یاد رہے کہ کالعدم تنظیم اہل سنت والجماعت کے رہنما مولانا اورنگزیب فاروقی نے گزشتہ روز پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ پرامن احتجاج کراچی علما کمیٹی کا حق ہے، انہوں نے خبردار کیا تھا کہ اگر مولانا عادل کے قاتلوں کو گرفتار نہ کیا گیا تو وہ دوسرے آپشن کی طرف جانے پر مجبور ہوجائیں گے۔

اسی حوالے سے مزید یہ کہ کراچی علما کمیٹی کے دوسرے اراکین قاری اللہ داد، مولانا حماد مدنی، مولانا تاج حنفی اور مولانا رب نواز حنفی نے متفقہ طور پر بیان جاری کیا کہ مولانا ڈاکٹر عادل کا قتل اور ان کے قاتلوں کا اب تک گرفتار نہ ہونا حکومتی کارکردگی پر بہت سے سوالات اٹھارہا ہے۔

مولانا عادل کا قتل
جامعہ فاروقیہ کے مہتمم مولانا ڈاکٹر عادل خان اور ان کے ڈرائیور کو 10 اکتوبر کو کراچی کے علاقے شاہ فیصل میں نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کرکے قتل کردیا تھا۔

اس واقعے کی تفصیلات سے متعلق پولیس حکام نے بتایا تھا کہ جامعہ فاروقیہ کے مہتمم ڈاکٹر عادل خان شاہ فیصل کالونی میں ایک شاپنگ سینٹر پر مٹھائیاں خریدنے کے لیے رکے تو مسلح افراد نے ان پر اندھا دھند فائرنگ کی اور فرار ہوگئے۔
بعد ازاں واقعے کی تفتیش کے لیے ایک تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جس نے قتل کے محرکات جاننے کے لیے تحقیقات کا آغاز کیا تھا۔

محکمہ انسداد دہشت گردی سی ٹی ڈی کے ترجمان راجا عمر خطاب نے میڈیا کو بتایا تھا کہ واقعے میں 3 افراد ملوث تھے جس میں سے 2 ملزمان نے ڈاکٹر عادل کی گاڑی کے قریب موجود تھے جبکہ تیسرا ملزم سڑک کے دوسری طرف موجود تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ حملے میں نائن ایم ایم پستول استعمال کی گئی جس کے خول فرانزک کے لیے بھیج دیئے گئے تھے۔