عمران خان کے ذہن میں اگر کچھ ہے تو وہ صرف پی ڈی ایم، بلاول بھٹو زرداری

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ پہلے ہی جلسے ہی میں حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہے اور عمران خان کے ذہن میں اگر کچھ ہے تو وہ صرف پی ڈی ایم ہے۔

پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے گوجرانوالہ میں ہونے والے جلسے کے لیے جاتے ہوئے لالہ موسیٰ میں پریس کانفرس کے دوران ان کا کہنا تھا کہ ’عمران خان کی ہر پریس کانفرنس اور تقریروں میں یہی موضوع ہوتا ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکنوں اور عہدیداروں کو حراساں کیا جارہا ہے، ان پر مقدمہ بنائے جارہے ہیں اور گرفتار کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’ وزیر اعظم کہتے تھے کہ احتجاج کرنے والوں کو کنٹینرز اور کھانا فراہم کریں گے، انہوں نے ہمارے راستوں میں ہی کنٹینرز رکھ دیے ہیں‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ’وزیر اعظم بھوک، بیروزگاری کو قید نہیں کرسکتے اور آج گوجرانوالہ میں عوام کا سمندر آپ کو جواب دے گا کہ اس سلیکٹڈ کے جانے کا وقت آچکا ہے‘۔

پیپلز پارٹی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ’وام کو دعوت دیتے ہیں کہ پی ڈی ایم کا حصہ بنیں اور 70 سال سے جمہوریت کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے والوں کو جواب دیں کہ پاکستان کی عوام غلام نہیں آزاد شہری ہیں‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ’افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ 2020 میں بھی غیر جمہوری کوششیں جاری ہیں، ایک جلسہ برداشت نہیں ہوتا‘۔

گلگت بلتستان میں آئندہ ماہ ہونے والے انتخابات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’گلگت بلتستان میں پری پول دھاندلی کا آغاز کردیا گیا ہے، میں حکومت کو خبردار کرتا ہوں کہ وہاں دھاندلی ہوئی اسے بالکل برداشت نہیں کریں گے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ’میں خود جارہا ہوں وہاں اور ہر چیز کی خود نگرانی کریں گے اور اگر عوام کے مینڈیٹ کو نہیں مانا گیا تو انتخابات کے دوسرے روز ہی اسلام آباد پہنچ کر احتجاج کریں گے‘۔ انہوں نے کہا کہ ’ہم 3 نسلوں سے پاکستان کی جدو جہد کر رہے ہیں، قیادت سے کارکنوں تک قربانیاں دے چکے ہیں، اب فیصلہ کرلیا ہے کہ اب ہمارے خون کے ساتھ انصاف کرنا ہوگا اور جمہوریت کو بحال کرنا ہوگا اس ملک کے عوام کے مسائل حل کرنے کا کوئی اور طریقہ نہیں‘۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ قومی اسمبلی و سینیٹ کا اجلاس طلب کرکے ملک کے ساتھ مذاق کیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’پارلیمان کو عزت نہیں دی جارہی، عمران خان صرف اس وقت تقریر کرتے ہیں جب میں وہاں موجود نہیں ہوتا‘۔

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ ’ہم عمران خان کو لانے والوں کے خلاف جدوجہد ہمیشہ سے رہی ہے اور ہمیشہ یہی کوشش کی ہے کہ ملک میں صاف و شفاف الیکشن ہو، فوج سرحدوں پر، عدلیہ کو ڈیمز بنانے کے بجائے عدالتوں میں ہونا چاہیے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ہم پارلیمان کا احترام کرتے ہیں اور اسے گھر بھیجنا نہیں چاہتے تاہم ہم احتجاج کا طریقہ کار اپنانے پر یقین رکھتے ہیں اور اگر ہر طریقہ ناکام ہو تو ہم اس انتہائی قدم پر غور کرسکتے ہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ ’ہم عوام کا بیانیہ لے کر نکلے ہیں جس کے ساتھ ساتھ ہر جماعت کا اپنا منشور بھی ہے اور چاہتے ہیں کہ پر امن طریقے سے اس جدوجہد میں کامیاب ہوں‘۔

چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ ’امید ہے کہ عمران خان کے سہولت کاروں کو احساس ہوگا کہ جمہوریت، ملک، معاشرہ داؤ پر لگا ہے اور اس کا حل صرف اور صرف جمہوریت ہے‘۔