عدالت جو بھی سزا دے گی قبول کروں گا،لاہور سیالکوٹ موٹروے کیس کے مرکزی ملزم عابد ملہی نے اہم بیان دیدیا

لاہور(نیوزڈسک)لاہور سیالکوٹ موٹروے کیس کے ملزم عابد ملہی کو کیمپ جیل لاہور کی چکی میں تنہا بند کر دیا گیا ہے۔ملزم کا کہنا ہے کہ وہ ایک ماہ تک ڈرا سہما رہا۔لگتا تھا کہ ہر فرد پولیس والا ہے اور سے پہنچانتے ہی گولی مار دے گا۔ملزم نے مزید کہا کہ گرفتاری کے بعد پہلی باراچھی طرح سویا ہوں۔ اور ایک ماہ بعد پیٹ بھر کر کھانا کھایا ہے اور سکھ کی نیند سویا ہوں۔

عابد نے مزید کہا کہ اس سے قبل مسلسل بے چین اور خوف زدہ رہا۔گرفتاری سے قبل والدین سے ملنا چاہتا تھا ۔یہ خواہش پوری ہو گئی۔گرفتاری کے بعد خود کو محفوظ سمجھنے لگا ہوں۔ جب کہ عدالت جو بھی سزا دے گی قبول کروں گا۔ ملزم کو شناخت پریڈ ہونے تک فیملی سے ملاقات کی اجازت نہیں ہو گی۔واضح رہے کہ لاہور موٹر وے پر خاتون کی آبرو ریزی کے مرتکب مرکزی ملزم عابد ملہی کو واقعے کے 33 دن بعد دو روز قبل فیصل آباد کے علاقے مانگامنڈی سے گرفتار کیاگیا تھا۔عابد کی گرفتاری سے متعلق مختلف قسم کے دعوے سامنے آ رہے ہیں۔پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم کو ہم نے اپنی انتھک محنت سے گرفتار کیا ہے جب کہ ملزم کے والدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے خود بیٹے کو پولیس کے حوالے کیا۔
عابد ملہی کے والد کا بتانا ہے کہ بیٹے نے جب رابطہ کیا تو اسے گھر آنے کیلئے کہا۔ جب بیٹا گھر آیا تو وہاں موجود پولیس اہلکار بے خبر موبائل پر ویڈیو دیکھنے میں مصروف تھے۔گھر آنے پر بیٹے کو تبدیل کرنے کیلئے کپڑے اور چادر دی اور اسے ایک طرف لے گیا۔ مجھے خدشہ تھا کہ اگر پکڑنے کی کوشش کی تو وہ بھاگ جائے گا۔ ۔ اس پر عابد نے کہا کہ ابا جی میں اس لیے گرفتاری نہیں دیتا تھا کیوںکہ یہ مجھے مار دیتے۔ صرف آپ کی یقین دہانی کروانے پر گرفتاری دینے کیلئے گھر آیا۔ اس موقع پر علاقے کا بااثر شخص خالد بٹ گھر آ گیا اور پھر کچھ دیر بعد اپنی گاڑی میں بٹھا کر عابد کو پولیس کے پاس گیا