سندھ: پوسٹ مارٹم کیلئے ڈاکٹر ماہا کی قبرکشائی

میرپور خاص: ایک خصوصی میڈیکل بورڈ نے سول جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ کی موجودگی میں سندھڑی تعلقہ میں گرہور شریف قبرستان میں ڈاکٹر ماہا علی شاہ کی قبر کشائی کی۔

رپورٹ کے مطابق میڈیکل بورڈ نے قبر کشائی کے بعد کیمائی جائزے (کیمیکل انالائزز) کے لیے نمونے حاصل کیے۔

مبینہ خودکشی کیس میں تفتیشی افسر کی سربراہی میں کراچی پولیس اور پھولادیوں کی سخت سیکیورٹی کے دوران بورڈ کے سربراہ ڈاکٹر محمد علی قریشی نے ڈاکٹر ماہا کی لاش کا پوسٹ مارٹم کیا۔

اس موقع پر مقامی صحافیوں کو قبرستان میں داخلے کی اجازت نہیں تھی۔

بعد ازاں صحافیوں سے گفتگو میں ڈاکٹر محمد علی قریشی کا کہنا تھا کہ کیمیائی جائزے کے لیے لاش سے مختلف نمونے حاصل کرلیے گئے ہیں، جس کے بعد رپورٹ تیار کی جائے گی اور اسے 10 سے 15 دن میں پولیس اور متعلقہ عدالت میں جمع کرایا جائے گا۔

اس موقع پر ڈاکٹر ماہا کے والد سید آصف شاہ نے صحافیوں کے سامنے کہا کہ ان کی بیٹی نے ملزم جنید کی بلیک میلنگ کے باعث سخت ذہنی دباؤ میں آنے کے بعد خودکشی کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ پولیس ان کی بیٹی کی خودکشی کی اصل وجوہات معلوم کرے۔

واضح رہے کہ 18 اگست کو کراچی کے علاقے ڈی ایچ اے میں اپنے گھر گولی کے زخم کے ساتھ مردہ حالت میں پائی گئی تھیں۔

ابتدا میں پولیس نے کہا تھا کہ کلفٹن کے ایک نجی ہسپتال میں کام کرنے والی نوجوان خاتون ڈاکٹر نے اپنے گھر میں خود کو گولی مار کر خود کشی کرلی۔ بعد ازاں پولیس نے ان کے دوست جنید خان، وقاص حسن، ڈاکٹر عرفان قریشی اور دیگر 2 افراد کو قانون کی متعلقہ دفعات کے تحت مقدمے میں نامزد کیا تھا۔

چند روز قبل کراچی کی مقامی عدالت نے ڈاکٹر ماہا کیس میں تفتیشی افسر کی جانب سے حتمی تحقیقاتی رپورٹ جمع کروانے تک ایک ملزم کو کیس سے نکالنے کی ہدایت کی تھی۔

مزید یہ کہ ابتدائی طور پر پوسٹ مارٹم کرکے ڈاکٹر ماہا کی لاش کو گرہور شریف قبرستان میں سپردخاک کیا گیا تھا۔

تاہم ان کے والد کی جانب سے پوسٹ مارٹم کے نتائج پر تحفظات کا اظہار کرنے کے بعد ڈاکٹر ماہ کی قبر کشائی کی گئی۔