این اے 120 فنڈز کیس: وزیراعظم کا معاملہ نیب کو بھیجنے کا فیصلہ

اسلام آباد:وزیراعظم عمران خان نے سابق وزیراعظم نواز شریف کی مرحومہ اہلیہ کلثوم نواز کی ضمنی انتخابی مہم میں مبینہ طور پرعوامی فنڈز کے غلط استعمال سے کیس کو قومی احتساب بیورو (نیب) اور الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) سے بھیجنے کا فیصلہ کرلیا۔

خیال رہے کہ قومی اسمبلی کے حلقہ 120 کے ضمنی انتخابات میں کلثوم نواز نے حصہ لیا تھا۔

رپوٹ میں بتایا گیا کہ حکومتی ترجمان کے ساتھ ہونے والے اجلاس میں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کو گوجرانوالہ میں جلسہ کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے تاکہ اپوزیشن اسے ’سیاسی کارڈ‘ کے طور پر استعمال نہ کرسکے۔

وزیر اطلاعات شبلی فراز کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کا این اے 120 نشست کے لیے ضمنی انتخابات میں مبینہ دھاندلی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) اپنی خواہش کے مطابق نتائج حاصل کرنے کے لیے ہمیشہ اپنا اثرورسوخ استعمال کرتی رہی ہے۔

وزیر اطلاعات کا مزید کہنا تھا کہ کیس نیب کو بھیج دیا گیا ہے، مزید یہ اپوزیشن کئی بار پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) پر 2018 کے عام انتخابات میں دھاندلی کا الزام لگاتی رہی ہے لیکن (اپوزیشن) نے اب تک الیکشن ٹریبیونل میں پی ٹی آئی کے مقابلے میں کم درخواستیں جمع کروائیں ہیں۔ شبلی فراز نے مزید بتایا وزیراعظم کا اجلاس میں کہنا تھا کہ ’پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی (پی پی) نے ہمیشہ ذاتی مفادات حاصل کرنے کے لیے اداروں میں اپنے لوگوں کو شامل کرکے انہیں ناکارہ بنایا ہے‘۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اپوزشن کی دونوں جماعتوں کے رہنماؤں نے اپنے فائدے کے لیے ریاست کا پیسہ بے تحاشا خرچ کیا اور قیامِ پاکستان کے بنیادی نظریہ کو تباہ کردیا جس کے مطابق غریب عوام کے بنیادی حقوق کو ترجیح دی جانی تھی۔ ساتھ ہی ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’یہ ملک چند خاص خاندانوں کے لیے نہیں بلکہ پوری قوم کے لیے بنا تھا‘۔

یاد رہے کہ اس سے قبل وزیر اعظم کے مشیر برائے داخلہ اور احتساب شہزاد اکبر نے لاہور میں پریس کانفرنس میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کی رہنما مریم نواز پر 2017 میں قومی اسمبلی کے حلقہ 120 کے انتخابات میں 2 ترقیاتی اسکیموں کے ڈھائی ارب روپے کے فنڈز کو دھاندلی کے لیے استعمال کرنے کا الزام لگایا تھا جو کہ ای سی پی کے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی تھی۔

خیال رہے کہ یہ ضمنی انتخاب کلثوم نواز جیتیں تھیں تاہم بعد ازاں وہ ستمبر 2018 میں طویل علالت کے باعث انتقال کرگئی تھیں۔

دریں اثنا اجلاس میں شامل ایک فرد نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ڈان کو بتایا کہ وزیراعظم کا اجلاس میں مؤقف تھا کہ اگر حکومت نے اپوزیشن کو گوجرانوالہ میں جلسہ کرنے کی اجازت نہیں دی تو وہ (اپوزیشن) اس صورتحال کو سیاسی فوائد حاصل کرنے کے لیے استعمال کرے گی۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ’وزیراعظم نہیں چاہتے کہ اپوزیشن اسے پوائنٹ اسکورنگ کے لیے استعمال کرے‘۔