فیصل واڈا کو نااہل قررا دینے کی درخواست پر الیکشن کمیشن سے ریکارڈ طلب

اسلام آباد: اسلام آباد ہائی کورٹ نے جولائی 2018 میں ہونے والے دوہری شہریت رکھنے پر وزیر آبی وسائل فیصل واڈا کے خلاف نااہلی کی درخواست پر کارروائی کے لیے الیکشن کمیشن آف پاکستان سے ریکارڈ طلب کرلیا۔

درخواست گزشتہ سال جنوری سے ہی ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق کے سامنے زیر سماعت ہے۔

فیصل واوڈا کو متعدد نوٹسز پیش کیے جانے کے باوجود انہوں نے کبھی بھی اس درخواست پر کوئی جواب نہیں دیا تاہم ایک وکیل نے ان کی جانب سے سماعت ملتوی کرنے کے لیے درخواست جمع کرائی۔

بدھ کو درخواست گزار کے وکیل ایڈووکیٹ جہانگیر خان جدون نے استدلال کیا کہ فیصل واوڈا نے عدالتی کارروائی میں رکاوٹ ڈالی ہے کیونکہ انہوں نے جواب داخل کرنے کی زحمت گوارا نہیں کی۔

وکیل نے کہا کہ وہ کارروائی پر ہنس رہے ہیں کیونکہ انہوں نے پورے عدالتی نظام کو عملی طور پر مفلوج کردیا ہے۔

جسٹس عامر فاروق نے وکیل کو ہدایت کی کہ وہ میڈیا کی دلچسپی کے حامل بیانات دینے کے بجائے قانونی معاملات پر توجہ دیں۔

ایڈووکیٹ جدون نے استدلال کیا کہ اگر بار بار عدالتی نوٹسوں کے باوجود جواب دہندہ جواب داخل نہ کرے تو اس صورت میں عدالت اس کا سامع کا حق ختم کرسکتا ہے، انہوں نے مشورہ دیا کہ عدالت مدعا علیہ کو حتمی انتباہ جاری کرے۔

اس کے بعد عدالت نے الیکشن کمیشن آف پاکستان سے متعلقہ ریکارڈ طلب کرلیا اور سماعت 3 نومبر تک ملتوی کردی۔

فیصل واڈا نے جولائی 2018 میں کراچی میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 249 سے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ٹکٹ پر الیکشن لڑا تھا۔

درخواست کے مطابق فیصل واوڈا نے اپنے کاغذات نامزدگی جمع کراتے ہوئے دوہری شہریت کو چھپایا اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کے سامنے یہ غلط اعلان کیا کہ ‘ان کی کوئی بیرونی شہریت نہیں ہے’۔
اس میں کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی کے وزیر نے آخری تاریخ کو اپنے کاغذات نامزدگی جمع کروائے جو 18 جون کو کلیئر کیے گئے تھے، انہوں نے مزید کہا کہ فیصل واوڈا نے 22 جون کو کراچی کے امریکی قونصل خانے میں اپنی امریکی شہریت سے دستبرداری کے لیے درخواست دی اور بعد میں 25 جون کو انھوں نے انہیں سند جاری کی۔

درخواست میں اعلیٰ عدلیہ کے متعلقہ فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ چونکہ فیصل واڈا اپنے کاغذات نامزدگی جمع کروانے کے وقت دوہری شہری رکھتے تھے، انہوں نے اپنی امریکی شہریت کو چھپایا اور اپنی شہریت سے متعلق ایک جھوٹا حلف نامہ پیش کیا لہٰذا قومی اسمبلی کی نشست اور وفاقی وزیر کے عہدے پر فائز ہونے کے لیے نااہل قرار دیا جائے۔
اس نے استدعا کی کہ عدالت جھوٹا حلف نامہ داخل کرنے کی وجہ سے مکرم اور ایماندار نہیں قرار دے سکتی ہے اور آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 کے تحت انہیں نااہل قرار دے سکتی ہے۔

درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ وہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کو این اے 249 کراچی میں دوبارہ انتخابات کرانے کا حکم دے، اس نے عدالت سے مزید استدعا کی کہ فیصل واوڈا کو "تنخواہ / معاوضے، رہائش، الاؤنسز اور دیگر سہولیات اور مراعات کے لحاظ سے موصولہ رقم واپس کرنے کی ہدایت کرے۔

درخواست گزار نے یہ استدعا کی کہ جب تک یہ مقدمہ چل رہا ہے اس وقت تک انہیں وفاقی وزیر کی حیثیت سے سرکاری فرائض کی انجام دہی سے روک دیا جائے۔