سانحہ بلدیہ فیکٹری ، سندھ ہائیکورٹ نے سزاؤں پر عملدرآمد روک دیا

کراچی (نیوز ڈیسک) سانحہ بلدیہ فیکٹری میں انسداددہشت گردی کی خصوصی عدالت کے فیصلے پر عملدرآمد روک دیا گیا ۔ اس حوالے سے تفصیلات کے مطابق سندھ ہائیکورٹ کی طرف سے سانحہ بلدیہ کیس کے مجرموں کی سزائے موت کے خلاف اپیل سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے سزاؤں پر عملدرآمد روک دیا، عدالت نے پراسیکیوٹر جنرل سندھ کو نوٹس جاری کردیا، اس کے ساتھ ساتھ سندھ ہائیکورٹ نے فریقین سے انسداد دہشت گردی عدالت کے فیصلے کی کاپی اور مقدمے کا ریکارڈ چار ماہ میں طلب کرلیا، جب کہ فیصلے کے خلاف سندھ ہائیکورٹ میں زبیر چریا، فضل احمد،حکم اور ارشد محمود کی طرف سے سندھ ہائیکورٹ میں اپیل دائر کی گئی تھی۔

یاد رہے کہ سانحہ بلدیہ فیکٹری سے متعلق انسداد دہشت گردی کی عدالت کی طرف سے 8 سال بعد سنائے گئے فیصلے کومجرموں نے سندھ ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا تھا ،مجرمان زبیر چریا ، رحمان بھولا، علی محمد، فضل محمد، شاہ رخ اور ارشد محمد کی طرف سے سزا کو سندھ ہائیکورٹ میں چیلنج کیا گیا ، جب کہ 3 فیکٹری ملازمین کی طرف سے شوکت حیات اور فاروق حیات ایڈووکیٹ نے ہائیکورٹ میں اپیل دائر کی ، اس کے علاوہ مجرم رحمان بھولا اور زبیر چریا کی جانب سے ایڈووکیٹ عامر منسوب نے اپیل دائر کی ،ان اپیلوں میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ انسداد دہشت گردی کی عدالت کے فیصلے میں حقائق کو نظر انداز کیا گیا ۔

واضح رہے کہسانحہ بلدیہ فیکٹری کیس میں ملزم رحمان بھولا اور ملزم زبیر چریا کو سزائے موت سنادی گئی تھی ، جب کہ حماد صدیقی کو اشتہاری قرار دے دیا گیا ، اور رؤف صدیقی بری ہوگئے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے سانحہ بلدیہ کیس کا 8 سال بعد فیصلہ سنادیا ، عدالت کی طرف سے جرم ثابت ہونے پر رحمان بھولا اور زبیر چریا کو سزائے موت سنادی گئی ، ایم کیو ایم سے تعلق رکھنے والے حماد صدیقی کو مقدمے میں اشتہار قرار دے دیا گیا ، جبکہ دیگر 4 ملزمان کو سہولت کاری پرعمر قید کی سزاسنائی گئی، جن میں علی محمد،ارشد محمود،فیکٹری مینیجر شاہ رخ اور فضل احمد شامل ہیں۔